سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 458
458 کپڑے پڑے ہوئے ہیں ان کو بھی رگڑ کر صاف کر کے پھر باہر نکلیں۔جو زیادہ پاک لوگ ہیں ، جو فطرتا صفائی پسند ہیں وہ قطع نظر اس کے کہ کچھ دکھائی دیتا ہے کہ نہیں اندرونی صفائی ضرور کرتے ہیں۔لیکن جو یہ نہیں کر سکتے کم سے کم جاتے جاتے اپنا مونہہ تو صاف کر لیتے ہیں اور بازو، ہاتھ یہ جو داغ نظر آنے والی چیزیں ہیں ان کو ستھرا کر کے باہر نکلتے ہیں۔تو پہلا جو فیصلہ ہے وہ یہ ہے کہ کم سے کم اتنا تو کرو کہ دنیا تمہارے اندر وہ داغ نہ دیکھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کے غلاموں کی شان کے منافی داغ ہیں۔وہ حرکتیں تو نہ کرو جن کے نتیجے میں تمہارے چہروں کے داغ ، اسلام کے داغ بنتے ہوئے دکھائی دیں۔دنیا یہ سمجھے کہ پتا نہیں کہاں سے یہ لوگ آئے ہیں ایسی گندی عادتیں، ایسی بے ہودہ حرکات اپنے ہاتھوں کو دھوؤ۔یعنی ان سے حرام کمائی کھانے کے تصور بھی قریب نہ پھٹکنے دو، اپنے ہاتھوں کو ظلموں سے بچاؤ یہ یہ ہاتھوں کا وضو ہے۔اپنے چہرے کو جو تو جہات کا چہرہ ہے اسے پاک وصاف کرو۔غلط تو جہات نہ کرو۔پاک چیزوں کی طرف توجہ رکھو۔یہ وضو ہے جو اس پاک تبدیلی کے لئے ضروری ہے اور پھر غسل کی تو فیق اگر ملے اور وہ لازما ملنی چاہئے تو کم سے کم اسلام میں داخل ہوتے وقت ایک غسل تو بہر حال ضروری ہوا کرتا ہے اور وہ نسل ہر انسان کو کرنا ہوگا اور آج کا دن ڈوبے نہ جب تک آپ یہ غسل نہ کر لیں۔یہ فیصلہ کریں کہ ہم نے اپنے بدن کو پاک صاف کر کے خدا کے حضور پیش کرنا ہے۔گند لے کر حاضر نہیں ہونا۔بُرائیوں کے شہر سے نیکیوں کے شہر کی طرف حرکت شروع کر دیں اگر اچھی مجلس ہو تو وہاں صاف ستھرا ہونا ضروری ہے تبھی قرآن کریم نے فرمایا خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ كم مسجدوں میں جاتے تو ہو مگر زینت لے کر جایا کرو، پاک لوگوں کی مجلس ہے وہ ، خدا والوں کی صحبت میں جا رہے ہو اس لئے نہ صرف صاف ستھرے ہو کے بلکہ سچ کر جایا کرو تو تفصیلی مضامین ہیں جو تبدیلی یعنی روحانی تبدیلی کو پیدا کرنے کے لئے سمجھنے ضروری ہیں۔کہ چٹکیوں میں تبدیلیاں نہیں ہوا کرتیں اور محض نمازیں پڑھ جانے سے بھی تبدیلیاں نہیں ہوں گی۔یہ سارے مضامین سمجھیں اور اس سال یہ فیصلہ کریں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ برائیوں کے شہر کو چھوڑ کر نیکیوں کے شہر کی طرف حرکت شروع کر دیں گے۔پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ جس حال میں تم جان دو گے خدا کے حضور مقبول انجام ہوگا اور خدا کی رضا پر جان دو گے مگر لازما نیکیوں کی طرف حرکت کرنا ہے چاہے گھسٹتے ہوئے کرتے چلے جاؤ۔ایسا شخص جس کی مثال آپ نے دی وہ ہے جس کی جان نکل رہی ہے، جسم میں طاقت نہیں ،موت کے نرغے میں مبتلا ہے اور پھر بھی گھٹنوں کے بل اور کہنیوں کے بل کوشش کر رہا ہے کہ دم نکلے تو خدا کے پاک لوگوں میں نکلے یہ وہ نظارہ ہے جس کے بعد یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالی اسے معاف نہ فرمائے۔پس یہ کیفیت اپنے اوپر طاری کریں تو یہ جمعتہ الوداع آپ کے لئے ایک اور معنے میں جمعۃ الوداع