سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 455
455 متعلق ایک فیصلہ کریں۔ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ بغیر نماز کے انسان مردہ ہے اس میں کوئی بھی جان نہیں۔یہ وہم ہے کہ ایک نماز یا ایک جمعہ کی نماز یا ایک رات کا قیام ان کی تمام عمر کے خلاء کو پر کرسکتا ہے۔آئندہ آنے والے خلاء پر کیا کرتا ہے پچھلے نہیں کیا کرتا۔پچھلوں سے بخشش ہوتی ہے لیکن جو زندگی کی روح اترتی ہے وہ آئندہ آنے والے دنوں پر اترا کرتی ہے۔پس اگر آئندہ نہیں اتری تو پچھلی بخشش بھی نہیں ہوگی یہ وہم ہے صرف۔اگر بخشش ہے تو لاز م رمضان کے بعد زندگی میں ایک نمایاں پاک تبدیلی ہونا ضروری ہے اس کے بغیر بخشش کا تصور ہی محض ایک بچگانہ تصور یا ایک احمق کی خواب ہے۔انصار اللہ ہر ناصر کونماز پڑھنی سکھلائے پس اپنے لئے ایک لائحہ عمل بنا ئیں نمازیں پڑھنے کی طرف متوجہ ہوں۔اگر آپ کو نماز پڑھنی آتی نہیں تو اپنے کسی بھائی ، اتھی سے پتہ کریں۔انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، بجنات اس طرف توجہ کریں ان سب لوگوں تک جہاں تک ممکن ہے پہنچنے کی کوشش کریں اور ان سے کہیں کہ اگر تم نے کچھ سبق سیکھنے ہیں طریقے معلوم کرنے ہیں ہم حاضر ہیں مگر کچھ نہ کچھ نما ز ضرور شروع کرو۔اگر چہ پانچ وقت کی نماز فرض ہے مجھے کوئی حق نہیں کہ میں کہوں کچھ نہ کچھ مگر میں جانتا ہوں کہ انسان کمزور ہے اور اللہ تعالیٰ بھی جانتا ہے کہ انسان کمزور ہے اسی لئے اس نے کچھ اس قسم کی رعایتیں دے رکھی ہیں کہ حسب توفیق آگے بڑھو تھوڑا تھوڑا نیکی کی طرف آگے بڑھنا شروع کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر اللہ تعالیٰ خود تمہاری طرف زیادہ تیزی سے آگے بڑھے گا۔تو یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ پانچ نمازیں فرض ہیں مگر آپ ایک ہی پڑھا کریں۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر پانچ کسی صورت نہیں پڑھ سکتے تو خدا کے لئے ایک تو پڑھیں۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے پانچ وقت کا کھانا میسر نہیں تو چوبیس گھنٹے میں ایک وقت کی روٹی تو مل جائے ، یہ مراد نہیں کہ پانچ وقت کی ضرورت نہیں ہے۔پس آپ اور کچھ نہیں اول تو پانچ کے لئے کوشش کریں یہ عہد کر لیں کہ ہم نے نماز ضرور پڑھنی ہے۔نماز میں شروع میں خالی رہیں گی رفتہ رفتہ بڑھیں گی۔یہ خیال غلط ہے کہ نماز پڑھتے ہی آپ عرش معلی کی سیر میں کرنے لگ جائیں گے۔یہ عمر بھر کی محنت ہے ایک دم تو گندم کے بیج بھی نہیں بھرا کرتے۔سارا سال چھ مہینے کم سے کم محنت ہوتی ہے تو آخر پر جا کر ان کے اندروہ دودھ بنتا ہے جو پھر گندم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔تو آپ کو محنت کرنی ہوگی اور رفتہ رفتہ عبادت کے وہ خوشے نکلیں گے آپ کے دل سے، خدا جن کو دودھ سے بھر دے گا اور وہ دودھ ہے وہ آپ کے لئے روحانی رزق پیدا کرے گا۔پس یقین رکھیں کہ لازماً ایک خدا ہے جس نے آپ کو پیدا کیا ہے آپ کو بے فکر کی حالت میں مزید زندگی نہیں گزارنی چاہئے۔یہ جہالت ہے لاعلمی ہے اور یاد رکھیں مرنا ضرور ہے اب کون کہہ سکتا ہے کہ اگلے