سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 454
454 $1997 اس سال یہ فیصلہ کریں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بُرائیوں کے شہر کو چھوڑ کر نیکیوں کے شہر کی طرف حرکت شروع کریں گے (خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء) " پس رمضان مبارک نے آپ کو عبادت کے گر سکھا دیئے ہیں۔اگر آپ نے خود نہیں سیکھے تو سیکھنے والوں کو دیکھا ضرور ہے۔کوئی مسلمان گھر شاذ ہی ایسا ہو جہاں کوئی بھی عبادت نہ کی جارہی ہو رمضان میں جہاں کوئی بھی روزہ رکھنے والا نہ ہو۔اگر ایسا ہے تو وہ بعید نہیں کہ آج اس جمعہ الوداع میں بھی حاضر نہ ہوئے ہوں اس لئے ان تک تو نہ میری آواز پہنچے گی نہ وہ میرے مخاطب ہیں۔میں ان سے بات کر رہا ہوں جن کے سینے میں کچھ ایمان کی اس رمق کو ہمیشہ پیار کی نظر سے دیکھا ہے ایک چنگاری تو روشن ہے ایک امید تو ہے پس میں ان سے مخاطب ہوں جن کے سینے میں یہ امید کی چنگاری روشن ہے۔ابھی تک اگر راکھ تلے دب بھی گئی ہے تو اندر یہ کوئلہ ابھی جل رہا ہے اور زندہ ہے۔پس اس پہلو سے آپ کو میں متوجہ کرتا ہوں کہ رمضان کی یہ برکتیں جولوگوں نے جو دن کو عبادت کرتے تھے راتوں کو نہیں اٹھا کرتے تھے ان برکتوں نے انہیں راتوں کو اٹھنا بھی سکھا دیا انہیں خدا کے حضور وہ اطاعت اور فرمانبرداری کی توفیق بخشی جو عام دنوں میں نصیب نہیں تھی۔رمضان میں گنا ہوں سے بچنے کی ایک بہت بڑی توفیق عطا فرمائی جو وقت کے لحاظ سے مشروط ہی سہی مگر توفیق ضرور ملی۔وہ لوگ جو اپنی بدعاتوں کو چھوڑنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوتے یا چھوڑنے کی طاقت نہیں رکھتے ایک محدود وقت کے لئے جو سحری سے لے کر افطار تک چلتا ہے مجبور ہوتے ہیں ان باتوں سے رکے رہتے ہیں تو رمضان نے سہارا دیا ہے رمضان نے آپ کو نیکی کے کاموں پر چلنے کے لئے وہ سوٹا مہیا کر دیا جس کی ٹیک لگا کر آپ رفتہ رفتہ آگے بڑھ سکتے ہیں اسے چھوڑ نہ دیں بالکل ، لوھوں لنگڑوں کی طرح پھر وہیں نہ بیٹھ رہیں جہاں بیٹھے ہوئے اپنی عمر ضائع کی۔بغیر نماز کے انسان مردہ ہے اس لئے آج پر وگرام بنا ئیں اور فیصلہ کریں۔اس پانی کو اکٹھا کرنا ہے اس سے فیض حاصل کرنا ہے۔اس لئے میں معین طور پر آج نئے آنے والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے عرض کرتا ہوں کہ وہ نماز کے