سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 450
450 تیرا ایک دوسرے کی طرف جائے گا۔اگر تیرے چلانے کا مضمون اس سے نکالا جائے تو سوائے اس کے ممکن ہی نہیں کہ جو نقشہ میں نے ذہن میں رکھا اور آپ کے سامنے پیش کیا اسے قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کی تائید میں سمجھا جائے تو بات یہ بنے گی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کمان سے چلا ہوا ہر تیر اللہ کی کمان سے چلا ہوا تیر تھا۔اللہ کی کمان سے جو تیر چلتا تھا محمد رسول اللہ کی وساطت سے چلتا تھا۔پس اس پہلو سے دن فتدلی کا مضمون یہ بنا کہ اتنا وہ قریب ہو گیا کہ جس سے زیادہ ممکن نہیں تھا اور ” تدلی“ پھر وہ جھک گیا اور اس جھکنے کے نتیجے میں وہ ” قاب قوسین ہو گیا۔اب قوسین کا مضمون یہاں ایک اور معنے اختیار کر جاتا ہے۔فرماتا ہے انسانیت کے ساتھ اس کا تعلق اس کے جھکنے کے نتیجے میں خدا کے تعلق کے ساتھ ایسا مدغم ہو گیا کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔اس کی بشریت نور ہو گئی ،اس کا نور بشریت بن گیا۔پس اس پہلو سے وہ بندوں پر جب جھکا ہے تو خدا کا نور بن کر اپنے ہم جنسوں پر تو جھک گیا اور اس کی بشریت نے وہ علاقہ قائم کر دیا۔جیسے ایک تنی دو کمانوں کے درمیان علاقہ بن جاتی ہے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بنی نوع انسان پر جھکنا ان کی خاطر تھا مگر خدا کی خاطر ان کی خاطر ہوا۔یہ وہ مشکل فقرہ جو میں نے آپ کے سامنے پیش کیا اس کی تشریح ہے۔ورنہ بندے کی خاطر بھی ایک انسان رحمت کا سلوک کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نبوت سے پہلے ذاتی شفقت سے لوگوں پر اسی طرح جھکا کرتے تھے۔مگر جب ”نور علی نور“ ہوئے تب کیفیت بدل گئی۔اس کے بعد ہر رافت ، ہر شفقت، ہر رحمت خدا کے تعلق سے اوپر سے اترا کرتی تھی۔اور بنی نوع انسان سے آپ کی محبت کو الہی محبت کی تائید حاصل ہوگئی۔اور آپ کی الہی محبت بنی نوع انسان کی محبت میں تبدیل ہونے لگی۔یہ وہ پہلو ہے جو امارت کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے اور اسی پہلو کو ہر صاحب امر کو سمجھنا ضروری ہے۔امیر سے مراد ہر وہ شخص ہے جسے کوئی امر سونیا گیا ہے میں جب امیر کہتا ہوں تو ہر گز مراد یہ نہیں کہ محض وہ امیر جوملکوں یا شہروں یا محلوں کے بنائے جاتے ہیں۔امیر سے مراد ہر وہ شخص جسے کچھ بھی امر سونپا جائے اور خدا کی خاطر سونپا جائے اور خدا کے نام پر سونیا ، جائے۔اس کی تربیت کے لئے یہ مضامین ہیں جو قرآن کریم نے ہم پر کھولے ہیں۔فرمایا کہ تم امیر ہومگر اب یاد رکھنا کہ اللہ کی خاطر جس طرح محمد رسول اللہ ان پر جھک گئے تھے جن کے سرخدا کی خاطر ان کے سامنے جھکائے گئے تھے تم بھی ان پر جھک جانا اور ان کی خاطر نہیں ، للہ۔کیونکہ ان کی خاطر جھکو گے تو تمہارے اندر شرک کے شائبہ داخل ہو جائیں گے۔شرک کے خطرات تمہیں ہو سکتا ہے واقعتہ ہلاک کردیں کیونکہ جب بھی انسان کسی سے رحمت کا تعلق رکھتا ہے یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ اس کے نتیجے میں جو پیار اور محبت کا سلوک اس سے کیا جاتا ہے وہ ان دونوں کو ایسے رشتوں میں باندھ دے کہ خدا کا مضمون بیچ میں سے غائب ہو جائے۔اسی