سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 32
32 32 جتنا روپیہ ہم یہاں سے بھجواتے تھے اس سے سینکڑوں گنا زیادہ روپیہ باہر سے ملنا شروع ہو گیا ہے پس کام تو انشاء اللہ جاری رہیں گے ہمیں صرف یہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش! ہم اب بھی روپے کے ذریعے اسی طرح مدد کرتے جس طرح پہلے کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ یہ روکیں بھی دور فرما دے گا اور یہ بھی دعاؤں کے ذریعہ سے ہی ہوگا۔انشاء اللہ۔ہر مجلس ہر سال ایک گاؤں میں احمدیت کا پودا لگائے۔مجلس انصاراللہ ہر اس گاؤں میں احمدیت پہنچانے کی کوشش کرے جہاں احمدیت نہیں ہے جہاں تک پاکستان کی جماعت کا تعلق ہے میں مجلس انصاراللہ کے سامنے خصوصیت سے یہ پروگرام رکھتا ہوں پہلے بحیثیت صدر مجلس انصار اللہ بھی یہ پروگرام آپ کے سامنے رکھا تھا کہ ایک ایسے گاؤں میں احمدیت کو قائم کرنے کی کوشش کریں جہاں پہلے احمدیت قائم نہیں ہے۔اگر ہر مجلس ہر سال ایک نئے گاؤں میں احمدیت نافذ کر دے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے چند سالوں کے اندر اندر اس ملک کی فضا تبدیل ہو جائے گیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دشمن بھی منصوبے بناتا ہے اور مکر کرتا ہے۔اور اللہ بھی منصوبے بناتا ہے اور ایک مکر کرتا ہے۔وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ (آل عمران : 55 ) اور اللہ کا مکر بہتر ہوتا ہے اپنی خوبیوں کے لحاظ سے بھی اور انجام کار بھی وہی غالب آیا کرتا ہے۔پس جتنا وہ مکر کر رہے ہیں آپ کو ذلیل اور رسوا کرنے کے لئے اور مٹانے کے لئے اور آپ کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے آپ بھی مقابل پر مکر کریں اور وہ مکر کریں جو اللہ کا مکر ہوتا ہے جو خَيْرُ الماکرین کا مکر ہوتا ہے۔دیکھتے دیکھتے اللہ کی تائید کے ساتھ یہ ساری بستیاں انشاء اللہ احمدی ہو جائیں گی۔یہاں احمدیت کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔پس وہ جو ہمیں مٹانے کے لئے خواہاں ہیں، یہ ان لوگوں کی خوا میں ہیں جو کبھی پوری نہیں ہوں گی وہی خواب پوری ہوگی جو میرے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب تھی جو آپ کے عاشق کامل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواب تھی۔ساری دنیا میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا گاڑا جائے گا۔اور دشمن اسلام کی ساری خواہیں نا کام جائیں گی۔پوری نہیں ہوں گی اور نا مراد نکلیں گی۔اور ہر جگہ ہر بستی ، ہر قریہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جھنڈا گاڑا جائے گا یعنی وہی جھنڈا جو درحقیقت حضرت محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے تمام دشمنان اسلام کی ہر خواب نامراد جائے گی اگر آپ دعائیں کریں گے، آپ احسن تدبیر سے کام لیں گے، اگر آپ برائی کا بدلہ حسن و احسان سے دیں گے اور صبر سے کام لیں گے تو یہی ایک تقدیر ہے جو پوری ہونی ہے۔اس کے سوا اور کوئی تقدیر نظر نہیں آتی۔اس کیلئے منصوبہ بنائیں۔اس کے لئے مجلس مرکز یہ سر جوڑ کے بیٹھے اور معین دیہات تقسیم کر کے آپ کے ذمے لگائیں۔اور پھر ضلع وار مقابلے کروائیں اور دیکھیں کہ کون پہلے نئے نئے دیہات میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا جھنڈا گاڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین