سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 420

420 رشتے داروں میں بھی یہی حال ہو رہا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ مشورہ بھی مانگا جائے تو مشورہ دینے والا امین نہیں رہتا۔ایسا مشورہ دیتا ہے کہ جو کسی اپنے عزیز کو نہیں دے سکتا اور ایسی نگا ہیں دوسروں پر ڈالتا ہے جو اپنے کسی عزیز پر نہیں ڈال سکتا۔پس یہ وہ نصیحت ہے کہ گہرائی کے ساتھ اس کے مضمون کو سمجھنے کے بعد اپنانے سے ہمارا معاشرہ حقیقتا جنت کا نشان بن سکتا ہے۔ہماری تمام بداخلاقیوں کو دور کرنے کا راز اس نصیحت میں ہے تمام حسن خلق اختیار کرنے کا راز اس نصیحت میں ہے کہ جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے متعلق حضرت عبداللہ بن ابی طوفہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کا اپنا ملنے جلنے کا انداز کیا تھا۔فرماتے ہیں کہ تکبر نام کو بھی نہیں تھا نہ آپ ناک چڑھاتے نہ اس بات سے برا مناتے اور بچتے کہ آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ چلیں۔بعض لوگوں میں یہ عادت ہوتی ہے کہ کوئی غریب ساتھ چل رہا ہو تو اس سے کچھ فاصلہ رکھتے ہیں اور کئی دفعہ روزہ مرہ زندگی میں ہم نے دیکھا ہے ہمیشہ سے ہی ایسے واقعات دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ بھرے بازار میں اگر کوئی امیر چل رہا ہو اور غریب اس کے ساتھ چل پڑے تو وہ اپنی اداؤں سے، اپنے انداز سے ایک فاصلہ بناتا ہے تا کہ دیکھنے والا محسوس کرے کہ ہم ایک نہیں ہیں اور اس طرح اس سے بات کرتا ہے کہ وقتی طور پر بات کرے اور کسی طرح پیچھا چھوٹے یہ اپنی راہ لے اور یہ جو فاصلے ہیں یہ ضروری نہیں کہ دور ہٹ کر بنائے جائیں انسانی انداز میں یہ فاصلے پائے جاتے ہیں اور دیکھنے والے صاحب فہم انسان کو دکھائی دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مرتبہ اور مقام دیکھیں اور ایک صحابی کا جس نے بڑی باریک نظر سے آپ کے معاملات کو دیکھا ہے یہ بیان سنیں فرماتے ہیں آپ بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ اس طرح چلتے تھے کہ ان کے ساتھ چلنے کو کبھی آپ نے اپنی شان کے منافی نہیں سمجھا۔مل جل کر ان کے ساتھ چلا کرتے تھے ایک ہو کر چلا کرتے تھے اور ان کے کام آتے تھے اور ان کی مدد کرتے تھے بے سہارا عورتوں اور مسکینوں اور غریبوں کی مدد کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے اور اس میں خوشی محسوس کرتے تھے۔اب یہ جو آخری پہلو ہے اس حدیث کا یہ بہت ہی اہم ہے۔نیکیاں یا اس قسم کے اخلاق جن کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ دو طرح سے اختیار ہو سکتے ہیں اول چونکہ خدا نے فرمایا چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایسا کیا اس لئے ہمیں کرنا چاہئے لیکن طبیعت پر باررہتا ہے۔اگر طبیعت پر بارہتا ہے تو پھر آپ نے سنت پوری نہیں کی اگر محمدرسول اللہ کی سنت پر چلنا ہے تو پھر اپنے کمزور بھائیوں سے ایسا ذاتی تعلق پیدا کریں کہ ان کی مدد سے آپ کے دلوں میں خوشی پیدا ہوتی ہو اور اس سے لطف آتا ہو اور اگر یہ ہو جائے تو آپ کی نیکی کی حفاظت کے لئے اس سے بڑا ضامن اور کوئی نہیں۔ہر وہ نیکی جو کوفت پیدا کرتی ہے جس سے تھکاوٹ ہو یا بیزاری ہو وہ نیکی نہ افراد میں زندہ رہتی ہے نہ قوموں