سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 397
397 محبت اختیار کرنے کی تلقین کی جائے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے کہ اسلام پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے۔اسلام جو حقوق مسلمانوں کے دوسرے مسلمان بھائیوں کے لئے مقرر فرماتا ہے ان حقوق کی ادائیگی کے بغیر بنی نوع انسان کی بھلائی کا دعوی کرنا بالکل بے سود اور بے معنی ہوگا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جو رحمۃ للعالمین تھے جہاں تمام بنی نوع انسان کے لئے اور تمام جہانوں کے لئے مبنی بر رحمت تعلیم دی اسی طرح آپ نے بلکہ اس سے پہلے تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق کی طرف متوجہ فرمایا اور دراصل اس طرح امت مسلمہ کو تمام بنی نوع انسان کے حقوق ادا کرنے کے لئے تیار کرنا مقصود تھا۔پس اس سنت کے مطابق میں نے پہلے ایسی احادیث چھنی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایسے اقتباسات چنے ہیں جن میں جماعت کو آپس کے تعلقات سے متعلق نصیحتیں ہیں اور ان کو بتایا گیا ہے کہ کون کون سے امور ہیں جن کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔کون کون سے تعلقات کے مقاصد ہیں جنہیں وہ حرز جان بنائے رکھیں یعنی اپنی جان کی طرح اپنے سینے سے لگائے رکھیں۔یہ مقصد اگر جماعت کے اندر حاصل ہو جائے تو پھر تمام بنی نوع انسان کو جماعت کا فیض خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بلا تمیز مذہب وملت ، قوم اور رنگ و نسل عام طور پر پہنچے گا اور اس ذریعے سے ہم انشاء اللہ تعالیٰ اپنے اعلیٰ مقاصد یعنی تمام بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔عمومی تعلقات اور باہمی معاملات عمومی تعلقات اور باہمی معاملات میں اخلاق سے متعلق جیسی پیاری تعلیم حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے غلاموں کو عطا فرمائی ہے آپ تمام بنی نوع انسان کے مذاہب پر نظر ڈال کر دیکھ لیں، اول سے آخر تک نظر دوڑائیں، آپ کو حقیقت میں ایسی پیاری تعلیم اتنے حسین انداز میں کوئی اور نبی دیتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔حالانکہ یہ امر واقعہ ہے کہ ہر نبی نے ویسی ہی تعلیم دی ، اس سے ملتی جلتی تعلیم دی اور سب کے مقاصد بنیادی طور پر ایک تھے مگر جیسا کہ آپ اس تعلیم کو خود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے الفاظ میں سنیں گے ، آپ کا دل گواہی دے گا کہ سب تعلیم دینے والوں میں سب سے آگے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہیں۔آپ کا انداز بیان بہت ہی دلنشین ہے۔آپ کی بات تقویٰ کی گہرائی سے اٹھتی ہے اور گہرا دل پر اثر کر جاتی ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا اور یہ ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے تھے مومن دوسرے مومن کے لئے مضبوط عمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے اور مستحکم بناتا ہے آپ نے اس مفہوم کو واضح کرنے کے لئے اپنی