سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 390

390 طرح سمجھ نہ سکے یا آغاز میں خالصہ اللہ کے ذکر کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا لیکن بعد میں آنے والے اس مضمون سے غافل ہو کر رسم و رواج کے پابند ہو کے رہ گئے اور ذکر کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔ان سب فرقوں پر اسی آیت وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ کا اثر معلوم ہوتا ہے۔آیت کریمہ میں جوفر مایا گیا ہے وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ کہ اللہ کا ذکر اکبر ہے تو اس سے بعض صوفیاء نے یہ سمجھ لیا کہ نماز جو ہے وہ نسبتا معمولی حیثیت کی چیز ہے اگر ذکر میں مشغول ہو جاؤ تو پھر نماز کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔چنانچہ ظلم کی حد ہے کہ ایسے فرقے بھی ایجاد ہوئے جنہوں نے امت کو نمازوں سے تائب ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ دن رات ذکر میں مصروف رہو نماز کی کوئی ضرورت نہیں یعنی حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر ذکر ایجاد کرنے کی کوششیں کی گئیں اور وہی مضمون ان پر صادق آیا کہ ماں سے زیادہ چاہے پیچھے کٹنی کہلائے۔“ آنحضرت سے ذکر سیکھیں ذکر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنا ہے جن کو اللہ نے مجسم ذکر قرار دیا ہے یعنی ایسا وجود ہے جس کے وجود میں اور ذکر میں فرق کوئی نہیں رہا۔ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں جس طرح لوہا مقناطیس بن جاتا ہے اسے لوہا بھی کہہ سکتے ہیں اور مقناطیس بھی کہہ سکتے ہیں۔لوہا جب آگ میں پڑ کر سرخ ہو جاتا ہے اور آگ کی حرارت کو اپنا لیتا ہے تو آگ اور لو ہے میں فرق کوئی نہیں رہتا۔پس قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم جسم ذکر الہی تھے۔پس ذکر سیکھنا ہے تو آپ سے سیکھیں اور آپ نے قیام نماز پر اتنا زور دیا ہے کہ احادیث سے پتا چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہمیشہ نماز میں اٹکا رہتا تھا ایک نماز اور دوسری نماز کے درمیان ہر وقت دل میں یہ تمنا تھی کہ پھر میں دوبارہ مسجد میں با قاعدہ نماز کے لئے جاؤں اور اسی کیفیت میں راتوں کو اٹھتے تھے اور بعض دفعہ راتیں اس طرح جاگ کر گزاری ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حکماً آپ کو روکا کہ اتنی عبادت نہ کیا کرو کچھ کم کر لو اور بدلتے ہوئے وقتوں کے لحاظ سے کبھی کچھ زیادہ کر لی لیکن آرام کے لئے بھی وقت رکھو۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ کر اس کے حوالے کے بغیر جب بھی قرآن کریم پر غور ہوگا تو وہاں دھو کے کا امکان ہے جو بعض دفعہ واضح اور بعض دفعہ یقینی ہو جایا کرتا ہے پس میں جو مثالیں دوں گا اس سے یہ مراد نہیں کہ قرآن کریم نے یہ ذکر پیش کئے تھے۔قرآن کریم نے وہی ذکر پیش کئے ہیں جو ہمیں سنت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتے ہیں۔ان کے سواذ کر کی کوئی حقیقت نہیں ہے مگر بعض ایسے بزرگ تھے جنہوں نے وقت کی ضرورت کے لحاظ سے بعض دفعہ ذکر کو عام لوگوں کے لئے آسان بنانے کے لئے کچھ ترکیبیں سوچیں۔میں سمجھتا ہوں ان پر حرف نہیں ہے وہ خود بزرگ تھے۔نیک