سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 385 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 385

385 کر لڑا کرتی ہیں اور ویسا نہیں لڑا جاتا۔ہمارے ہندوستان میں بعض غیر مسلم قو میں لڑائی سے پہلے ضرور شراب پیا کرتی تھیں۔کیونکہ شراب کے نشے میں آکر ان کو اپنے خطروں کا پتہ نہیں لگتا تھا کہ خطرے کیا کیا ہیں اور وہ بس ایک دھکے کے ساتھ زور سے داخل ہو جاتے تھے میدانِ جنگ میں جتنے مارے گئے مارے گئے۔بعد میں ہوش آتی تھی کہ کیا واقعہ ہو گیا ہے۔تو اس لئے علم کے نتیجے میں خوف پیدا ہوتا ہے تو جب آپ ذکر کریں گے تو پھر پتا لگے تو کہ او ہو ان باتوں سے میں تو غافل رہا ہوں۔ان میں مجھ سے کوتاہیاں ہوئی ہیں اور ان معاملوں میں میں مجرم بن رہا ہوں اور دوسری طرف علم محبت پیدا کرتا ہے۔جب اللہ کے حوالے سے آپ زندگی گزارتے ہیں۔تو آپ کے دل میں بے پناہ محبت اس وجود کی پیدا ہوتی ہے جس نے آپ کی خاطر یہ سب کچھ کیا ہے۔تو جب واسطی نے یہ کہا کہ غفلت کے میدان سے مشاہدے کے میدان میں نکلو تو بالکل درست کہا ہے۔اور یہ ایک محض سہانا ایسا کلام نہیں جس طرح صوفی اپنے دکھاوے کے لئے بنالیتے ہیں گھڑ لیتے ہیں ایک صاحب تجر بہ صاحب مشاہدہ کا کلام ہے۔ذوالنون مصری کہتے ہیں:۔مَنْ ذَكَرَ اللهَ تَعَالَى ذِكْرًا عَلَى الْحَقِيقَةِ نَسِيَ فِي جَنْبِ ذِكْرِهِ كُلَّ شَيْءٍ وَ حَفِظَ اللَّهِ تَعَالَى عَلَيْهِ كُلَّ شَيْءٍ وَ كَانَ لَهُ حِفْظًا عَنْ كُلَّ شَيْءٍ اس کا ترجمہ اب میں پڑھ دیتا ہوں لیکن اس مضمون کو انشاء اللہ آئندہ خطبے میں بیان کروں گا۔وقت نہیں رہا۔ذوالنون مصری کہتے ہیں کہ جس نے اللہ تعالیٰ کو یا دکیا فی الحقیقت ذکر کیا۔وہ ذکر ہر دوسری یا د کو مٹادیتا، یعنی لا الہ کا مضمون اس کو تب سمجھ آتا ہے جب الا اللہ کی حقیقت پر غور کرے اور جب اللہ کی حقیقت پر فی الواقعہ غور کرتا ہے تو تب وہ محسوس کرتا ہے کہ ارد گرد کوئی بھی باقی نہیں رہا۔سب مٹ گئے وہ اکیلا وہی اور خدا رہ گیا ہے اور اللہ اس کے لئے ہر چیز پر اس کا محافظ بن جاتا ہے۔جب غیر اللہ کے سہارے ٹوٹ گئے ، کوئی رہا ہی نہیں میدان میں جس کو پکارے جس کو آواز دے تو پھر اس کی حفاظت کا سارا ذمہ خدا تعالیٰ کے اوپر ہو جاتا ہے۔" خطبات طاہر جلد 12 صفحہ 883-901)