سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 328

328 ہو جاتی ہے گھر بار کو آگ لگ جاتی ہے یا ڈا کولوٹ کر لے جاتے ہیں۔ساری عمر کی کمائی ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ایسے موقع پر تجل کے لئے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں لیکن یہ تبتل اصل میں وہ تجل نہیں ہے جس کی طرف قرآن کریم بلا رہا ہے۔اس تبتل کے نتیجہ میں کئی قسم کی باتیں ہوسکتی ہیں۔مثلاً جب انسان کو ایک دھکا لگتا ہے گہرا صدمہ پہنچتا ہے تو بعض دفعہ انسان ایسی صورت میں خدا کی طرف جانے کی بجائے انسانوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ضروری نہیں کہ دنیا کے اس دھکے کے نتیجہ میں ضرور خدا ہی کا خیال آئے وہ اور زیادہ دنیا کی چیزوں کی طرف گرتا ہے۔بعض دفعہ ایسا آدمی ہوش گنوا بیٹھتا ہے، پاگل ہو جاتا ہے۔اس طرح اپنا تعلق توڑتا ہے کہ ہوش بھی جاتے رہتے ہیں۔اس مضمون میں ایک اندرونی ربط ہے اصل میں وہ تعلق جو ٹوٹ نہ سکے وہ غالب آچکا ہو اس کو انسان بھلائے تو بھول سکتا ہے ورنہ ٹوٹ نہیں سکتا۔تبتل ان لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو غیر اللہ سے منہ موڑتے ہیں پس ایسا شخص جو کسی ایسی چیز سے محبت کرتا ہے گویا وہ اس کا معبود بن چکی ہے اس سے علیحد گی ممکن نہیں۔ایسی مائیں جو عملاً اولاد کی پرستش کر رہی ہوتی ہیں جب وہ اولاد ہاتھ سے جاتی رہتی ہے تو اس لئے پاگل ہوتی ہیں کہ ہوش اور اولاد کی یاد اور اولاد کا تعلق ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں۔موت کے سوا علیحدگی ممکن نہیں پس ذہن میں موت آجاتی ہے اور اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔پس یہ تبتل جو دنیا کے دھکے کے نتیجے میں پیدا ہو لازم نہیں کہ خدا کی طرف دھکیلے مگر خدا کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔اس لئے بعض لوگ جو کہتے ہیں فلاں شخص کو صدمہ پہنچا اور وہ بہت بزرگ بن گیا ہے۔درویش بن گیا ہے لوگ اس کے پاس دعاؤں کے لئے جاتے ہیں لیکن وہ جو درویش ہے اس کی کیفیت میں اور اس درویش کی کیفیت میں جس نے خدا کی خاطر تعلق توڑے ہوں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔بعض دفعہ لوگ اس کو بت تو بنا لیتے ہیں لیکن وہ بت حقیقت میں خدا کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتا۔دنیا سے مجبوری کا تعلق کاٹنے کے بعد جو دھکے کھا کر آتا ہے اس کو اگر اللہ تعالیٰ اپنی درگاہ میں جگہ دے دے تو احسان ہے لیکن اس سے وہ محبت پیدا نہیں ہوسکتی جواللہ تبتل کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور للہی تبتل انہی لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہر موقع پر خدا کوترجیح دے کر غیر اللہ سے منہ موڑتے ہیں اور تعلق قطع کرتے ہیں۔اس سلسلہ میں حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی مثال میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے اسے احسن القصص بیان فرمایا۔میں شروع میں جب پڑھا کرتا تھا تو حیران رہ جاتا تھا کہ یہ قصہ آخر ایسا احسن کیا ہے لیکن جوں جوں غور کیا تو اس بات کی سمجھ آتی گئی کہ تبتل کے مضمون میں ایک عظیم الشان قصہ ہے۔قرآن کریم جب قصہ کہتا ہے تو حقیقت کو قصہ بتاتا ہے پس قرآنی اصطلاح میں ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس پر جتنا غور کریں انسان حیران ہوتا چلا جاتا ہے۔پس بے انتہا تعلق ہو اور بے انتہا تعلق کے سارے محرکات موجود ہوں