سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 327
327 کی یہ دعا اس وقت کی دعا ہے جبکہ ان کی شرارت بڑھتے بڑھتے ایک ایسی سازش میں تبدیل ہو چکی تھی جس کے نتیجہ میں آپ کو جیل سامنے دکھائی دے رہی تھی اور جانتے تھے کہ انہوں نے مجرم بنا کر مجھے جیل خانے بھجوادینا ہے۔یہ ایک احتمال تھا۔اس احتمال کی صورت میں آپ نے اپنے دل کو ٹو لا ایک طرف وہ کشش تھی جو ایک طبعی کشش تھی اور دوسری طرف خوف حائل تھا کہ اگر میں اس گناہ میں مبتلا نہ ہوا تو پھر یہ سزا ملے گی۔ان دونوں متفرق سمتوں کے دباؤ کے نیچے آکر پھر دل نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں بچنا چاہتا ہوں اس وقت کی دعانا مقبول ہو ہی نہیں سکتی۔پس وہ لوگ جو تبتل چاہتے ہیں ان کے لئے یہ ایک عظیم مثال ہے۔تقتل سے پہلے نفس کا تنبل ہونا ضروری ہے۔تقبل کا اصل مطلب بدیوں سے نجات حاصل کرنا ہے ور نہ ظاہری تبتل ممکن نہیں ہے اور جہاں تک دوسری حکمتوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ اے میرے بندے! تو تو قربانی کے لئے تیار ہے میں تجھے جیل سے بھی بچاتا ہوں لیکن بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ اس بدی کے پیچھے ایک بہت بڑا حسن پوشیدہ تھا۔جیل میں جانے سے ہی ترقیات کے وہ تمام دروازے کھلے ہیں جن کے متعلق ویسے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔لیکن اس مشکل کے رستے سے اللہ تعالیٰ نے فراخی کے رستے کھول دئے اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو اس عظیم مقام تک پہنچایا جہاں پہنچانا مقدر تھا لیکن حضرت یوسف کی دعا اس میں مددگار بن گئی۔پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مثالیں محفوظ فرمائی ہیں ان کی دنیا پر آپ غور کر کے دیکھیں انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔عظیم کلام ہے جس کے اندر اپنی سی ایک دنیا ہے، اپنے قانون چل رہے ہیں اور ایک بات کو دوسری بات سے گہرا ربط ہے۔پس تبتل کا مضمون ہم پر ظاہر ہو گیا کہ اگر تبتل کرنا ہے تو تجمل بہت مشکل کام ہے۔مرنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ انسان جس چیز سے چمٹارہتا ہے اس سے علیحد گی عملاً موت دکھائی دیتی ہے۔پس یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جہاں زندگی کی ہر تمنا موت دکھائی دے رہی ہے۔ایک دفعہ کا مرنا نہیں ہے۔بار بار کا مرنا ہے لیکن زندہ ہونے کی خاطر اور زندہ ہونے کی تمنا کے رستے میں یہ باتیں روک ہیں۔تو تمنا ہی نہیں اٹھتی۔یہ تمنا دعا سے اٹھ سکتی ہے دعا کے نتیجے میں بیدار ہو سکتی ہے ورنہ سوئی پڑی رہے گی۔اس حصے کی طرف میں بعد میں آؤں گا پہلے میں آپ کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ تبتل کہاں سے کہاں ہوگا جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ تقبل کا اصل میں مطلب ہے بدیوں سے نجات حاصل کرنا۔بدیوں سے تعلق توڑنا ، یہ تعلق دو طرح سے ٹوٹ سکتا ہے ایک یہ کہ بدیاں دھکا دے دیں۔حالات ایسے پیدا ہوجائیں کہ انسان مجبور اور بے اختیار ہو جائے کوئی رستہ باقی نہ رہے ایسی صورت مثلا یوں پیدا ہوتی ہے کہ کسی کا محبوب مرجائے تو ایسا سخت دھکا لگتا ہے کہ انسان دنیا سے ہی بیزار ہو جاتا ہے۔کسی ماں کا پیارا بیٹا فوت ہو جاتا ہے، کسی کی ساری جائیداد بر باد