سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 325
325 یعنی جو پہلے گلے میں انکی ہوئی ہیں وہ تو پہلے کھاؤ پھر دوسری پنیوں کا مطالبہ کرنا تو جب بھی مجھ سے بار بار نصیحتوں کا مطالبہ ہوتا ہے تو ذہن اس لطیفے کی طرف چلا جاتا ہے۔وہ لطیفہ تو محض مذاق ہے لیکن جو میں کہ رہا ہوں یہ حقیقت ہے وہ نصیحتیں جو پہلے کی جائیں اگر وہ گلے میں انکی رہ جائیں اور دل تک نہ اتریں یا کانوں میں پھنس جائیں اور ذہن میں نہ جائیں تو ایسی نصیحتوں کا فائدہ کوئی نہیں اور ایسی نصیحتیں سننے والا مزید کے مطالبے کا حق نہیں رکھتا۔پس میں خطبات میں جو کچھ کہتا ہوں وہ بہت ہے بلکہ بعض دفعہ دل پر یہ بوجھ پڑتا ہے کہ اتنا زیادہ کہہ دیا گیا ہے کہ ابھی شاید جماعت میں اس یہ سب کچھ کو اٹھانے کی طاقت نہیں ہے لیکن بار بار دہرا کر کچھ تسلی ہوتی ہے کہ جو باتیں ضرورت سے زیادہ محسوس ہوئی ہوں، بار بار کہنے سے دل نشین ہو جائیں گی اور اس سے رفتہ رفتہ جماعت کو ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق ملے گی۔مرنے سے پہلے مرجاؤ میں زندگی اور موت سے متعلق جو مضمون بیان کر رہا تھا اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ موت سے زندگی زیادہ مشکل ہے اور روحانی زندگی کے متعلق تو یہ سو فیصد درست ہے کہ زندہ ہونا زیادہ مشکل ہے، زندہ ہونے کی تمنا بھی مشکل ہے اور یہ خیال کہ ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ میں بدیوں سے چھٹکارا حاصل کروں اور نیکیوں کی طرف حرکت کروں۔یہ محض ایک خوش فہمی ہے۔ایک روحانی کیفیت کا نام ہے،اس میں حقیقت نہیں ہے۔عملاً جب میں نے غور کیا تو صوفیاء کا ایک مقولہ میرے ذہن میں آیا جو صوفیاء کو بہت پسند ہے کہ مُوْتُوا قَبْلَ أَن تَمُوتُوا کہ مرنے سے پہلے مر جاؤ۔اس سلسلہ میں مجھے خیال آیا کہ احادیث میں مجھے یاد نہیں کہ کبھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہو جہاں تک میں نے تلاش کیا ہے یا کروایا ہے مجھے ایسی کوئی حدیث دکھائی نہیں دی لیکن قرآن کریم میں یہ ذکر ضرور ملتا ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلائیں تو استجیبوا (الانفال: 25) اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کا جواب دو اور زندہ ہونے کے لئے آگے بڑھو۔پس موت کا نہیں زندگی کا ذکر ہے اور انبیاء موت سے زندہ کرنے کے لئے آتے ہیں اور اس زندگی کو دراصل دوسرے صوفیاء نے موت کا نام دے دیا ہے کیونکہ وہ زندگی موت سے بھی زیادہ دوبھر ہے جن باتوں کی طرف بلایا جاتا ہے وہ گویا مرجانے کے مترادف ہے۔پس اپنے اپنے ان تعلقات پر اگر آپ غور کریں جن تعلقات نے آپ کو خدا کے مقابل پر کسی اور بدی کا غلام بنا رکھا ہے تو پھر آپ کو بات کی کچھ سمجھ آئے گی کہ ان تعلقات سے چھٹکارا حاصل کرنا تو الگ رہا ان تعلقات سے چھٹکارے کی گہری تمنا کا پیدا ہونا بہت مشکل کام ہے۔