سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 324
324 جو اجتماعات کل سے شروع ہو چکے ہیں اور آج بھی جاری ہیں غالباً میرے آج کے اس خطبہ کے بعد جو وہاں شام کے قریب کسی وقت سنا جائے گا یہ اجتماع ختم ہوں گے ان میں مجلس انصاراللہ کے اجتماعات، بہاول نگر، رحیم یارخان، اوکاڑہ ، جہلم اور نواب شاہ ضلع کے ہیں۔یہ سب کل 14 اکتوبر سے شروع ہوئے ہیں اور آج ختم ہوں گے۔یہ ساری وہ مجالس ہیں جن میں مختلف وقتوں میں دوروں کی توفیق ملتی رہی بہت سے ایسے چہرے ہوں گے جو ابھی بھی انصار اللہ کے مختلف عہدوں پر فائز ہوں گے۔وہ مقامات جہاں پر اجتماعات ہور ہے ہیں وہ بھی اکثر میری نظر میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنے فضل کے ساتھ ان مقاصد کو پورا کر نے کی توفیق عطا فرمائے جن مقاصد کے پیش نظر یہ اجتماعات ہوتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کے اجتماعات جو کل سے شروع ہوئے ان میں ضلع گوجرانوالہ، نارووال، گجرات، راولپنڈی ،لودھراں، پشاور کے اجتماعات ہیں۔پشاور کا اجتماع اگر چہ ضلعی ہے لیکن دوسرے اضلاع سے بھی خدام شرکت کر رہے ہیں اس لئے عملاً یہ صوبائی بھی بن گیا ہے۔جو اجتماع آج سے شروع ہو رہے ہیں ان میں مجلس انصار اللہ ضلع اٹک، خدام الاحمدیہ ضلع نواب شاہ اور ڈرگ روڈ کراچی کے اجتماعات ہیں۔اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ ضلع نوشہرو فیروز کا اجتماع بھی 15 اکتوبر سے ہی شروع ہو رہا ہے اور کل ختم ہوگا۔جو اجتماع کل سے شروع ہوں گے ان کے ذکر کے متعلق بھی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے اس میں مجلس انصار اللہ ضلع بدین اور گجرات (پاکستان) کے اجتماع ہیں اور اسی طرح مجالس انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ آل آندھر اہندوستان کے سالانہ اجتماعات 16 سے شروع ہو کر 17 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ساری جماعت کو نصائح میں خدام ، انصار ، لجنات اور اطفال پیش نظر ہوتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا ہر اجتماع پر الگ الگ نصیحتوں کی نہ تو ضرورت ہے نہ عملاً ان کا کوئی فائدہ ہے کیونکہ جو نصیحتیں ساری جماعت کو کی جاتی ہیں ان میں خدام، انصار، لبنات ، اطفال سب پیش نظر ہوتے ہیں۔ان نصیحتوں پر کان نہ دھرنا اور الگ نصیحتوں کا مطالبہ کرنا یہ تو ایک بے معنی سی بات ہے۔اس پر تو وہی لطیفہ صادق آتا ہے جیسا کہ شاید پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ ایک میراثی اپنی بہن سے ملنے گیا اور پنجاب میں یہ رواج ہے کہ جو بھائی اپنی بہن سے ملنے جاتا ہے وہ پنیاں لے کر جاتا ہے وہ بے چارہ کبڑا تھا اور بہن کے گلہڑ نکلے ہوئے تھے۔گٹھلیاں سی دونوں طرف تھیں بہن نے جب دیکھا کہ بھائی خالی ہاتھ آیا ہے تو مذاق کے طور پر اس نے کہا کہ بھائی اپنیوں کی یہ گھڑی جو تم نے اٹھا رکھی ہے اتار کر مجھے پکڑا دو یعنی اس کے کبڑا ہونے کی طرف اشارہ تھا اور مذاق تھا کہ تم خالی ہاتھ آئے ہو ، ہاتھ میں تو کچھ نہیں ہے۔شاید تم نے پیٹھ کے اوپر یہ پنیوں کی گٹھڑی اٹھا رکھی ہے۔بھائی میراثی تھا اس نے فوراً جواب دیا کہ ”پہلے اگلیاں تے لنگائے“