سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 321
321 اللہ تک کی عمر تک دراز ہیں۔میں نے ایک بات جو ہمیشہ محسوس کی اور اس کی وجہ سے طبیعت میں اطمینان نہیں ہو سکا کہ اجتماعات پوری طرح فائدہ مند ہیں بھی کہ نہیں، وہ یہ تھی کہ اجتماعات میں ضرورت سے زیادہ پروگرام بھر دیئے جاتے تھے اور کوشش کی جاتی تھی کہ تین دن میں سب کچھ پڑھا دیں۔قرآن کریم کا کورس،حدیث کا کورس، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کا کورس ، نماز میں یاد کروانا، تبلیغ کے گر بتانا تبلیغ کی مرکزی آیات بتانا، اعتراضات کے جواب سکھانا ، یہ ناممکن ہے۔ہو ہی نہیں سکتا کہ تین دن یا پندرہ دن کے اجتماع میں بھی یہ ساری باتیں اچھی طرح بچوں کے ذہن نشین کرادی جائیں۔پھر وہ سرسری سے امتحان ہوتے تھے اور پھر انعامات تقسیم ہو گئے اور سب نے جبّذا کہا اور چھٹی ہو گئی۔کچھ دن کے بعد جب آپ ان بچوں سے جا کر پوچھیں کہ کچھ یاد بھی ہے تو شاید ہی کوئی ہوگا جسے یاد ہوگا اور وہی ہو گا جسے پہلے ہی یاد تھا۔اجتماع کے بعد اس تین دن کے تیزی کے ساتھ گھوٹنے والے پروگراموں میں بچوں کو کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ہاں ایک روحانی لذت ضرور ہوتی ہے۔اجتماع میں شمولیت کی برکت ضرور عطا ہوتی ہیں۔اس لئے اجتماع کو بے فائدہ کہنا تو یقیناً غلط ہے مگر پروگرام اس ذہانت سے ترتیب نہیں دیئے جاتے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ استفادہ ہو سکے۔تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ پروگرام نہیں بلکہ کم سے کم پروگرام رکھنے چاہئیں۔یہ دو چیزیں ایک دوسرے سے ضد رکھتی ہیں تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ پروگرام کم سے کم افادہ کریں گے یعنی فائدہ پہنچائیں گے اور کم سے کم پروگرام جن کو بڑی محنت کے ساتھ اور عقل کے ساتھ تیار کیا گیا ہو اور بار بار رواں کروایا جائے تو یہ پروگرام بہت گہرا فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کو سال بھر کا Home Task دیا جائے۔ہمارے ہاں سکولوں میں بھی استاد سمجھتے تھے کہ ایک گھنٹے کی پڑھائی یا چالیس منٹ کی پڑھائی کافی نہیں ہے۔اس لئے وہ گھر کا کام دیا کرتے تھے۔یورپ میں یہ رواج بہت زیادہ ہے۔جتنا کام وہاں دیا جا تا تھا اس سے بہت زیادہ کام یورپ میں گھر پر دیا جاتا ہے۔تمام یو نیورسٹیاں یہی کرتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک بچہ گھر جا کر خود ذمہ داری اور توجہ سے ان باتوں کو سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش نہیں کرے گا۔اس وقت تک محض کلاس کا پڑھا ہوا کافی نہیں ہے۔ساری دنیا کے اجتماعات کو حکمت سے بھر دیں عقل کے مطابق کام کریں تین دن کے جو اجتماعات ہیں ان میں تو بچے کو زائد وقت ملتا ہی نہیں۔ناممکن ہے کہ وہ رات گیارہ بجے تک مصروف رہے اور پھر صبح چار بجے اس کو تہجد پر بھی اٹھانا ہوا اور بیچ میں وہ گھر کے کام کی تیاری بھی کرے اس لئے حقیقت پسندی بہت ہی ضروری چیز ہے۔ساری دنیا کے اجتماعات کو حکمت سے بھر دیں، عقل کے مطابق کام کریں، یہ بات یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا