سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 20
20 یورپ میں اور مغربی ممالک میں یہ بھیا نک تصویر کھینچی جاتی کہ اس وقت انتہائی ظلم ہورہا ہے اتنا شدید ظلم ہورہا ہے کہ گویا شاہ کے زمانے کے مظالم اس کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور یہ سارا ظلم اسلام کی طرف سے ہو رہا ہے جس کے نمائندہ اس وقت خمینی ہیں۔یہ وہ پس منظر ہے جس میں یہ سوال کیا جاتا تھا اور مقصد ان کا یہ تھا کہ اگر ہم خمینی صاحب کے خلاف کوئی کلمہ بولیں تو سارے یورپ کے اخبار اس کو اچھالیں اور کہیں کہ دیکھو! مینی کو Condemn کیا جارہا ہے۔اور اگر ہم کچھ نہ کہیں تو سارا یورپ سمجھ لے کہ یہ بھی اسی قسم کا ایک اسلام ہے جو آج ہمارے پاس آ گیا ہے اور ہمیں اس اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں جو مظالم کی تعلیم دیتا ہو۔یہ وہ مشکل رستہ تھا جس پر وہ مجھے کھینچ کر لانا چاہتے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کا مؤثر جواب دینے کی توفیق عطا فرمائی۔یہ جواب میں اس لئے بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں بعض تبلیغی حکمتیں ہیں جن کا آپ کے سامنے کھول کر رکھنا ضروری ہے۔اس کا ایک جواب تو میں نے ان کو یہ دیا کہ جب آپ خمینی صاحب پر حملہ کرتے ہیں اور مظالم کی داستان کو اچھالتے ہیں تو آپ یہ فرق نہیں کرتے کہ مسلم قوم اور مسلم لیڈر ایک اور چیز ہے اور اسلام ایک اور چیز ، اسلام ایک مذہب کا نام ہے اس کی ایک تعلیم ہے اس کی طرف منسوب ہونے والے سارے کے سارے اس تعلیم پر ہر پہلو سے کار بند نہیں ہیں۔اگر اسلام پر آپ نے حملہ کرنا ہے تو اسلام کی تعلیم کی رو سے حملہ کریں مجھے بتائیں کہ اسلامی تعلیم میں کہاں مظالم کی تلقین کی گئی ہے۔کہاں بنی نوع انسان کے حقوق غصب کرنے کی تلقین کی گئی ہے؟ لیکن ایک مسلمان کے کردار کو سامنے رکھ کر جس کو خود آپ نے پینٹ کیا ہے اور ہمیں پتہ نہیں کہ آپ کا بیان کس حد تک درست ہے اور کس حد تک غلط ہے ہم نہیں جانتے کہ اصل واقعات کیا ہیں آپ مجھ سے فتویٰ چاہتے ہیں ان باتوں کے متعلق جن کی آپ نے یک طرفہ تصویر کھینچی ہے اور اسلام کی انصاف کے بارہ میں تعلیم مجھے اس بات سے منع کرتی ہے کہ میں یک طرفہ فتویٰ جاری کروں لیکن اگر سو فیصدی تسلیم بھی کر لیا جائے کہ آپ کا بیان درست ہے وہ نہایت ظالم ہیں انہوں نے اسلام کے نام پر حد سے زیادہ مظالم کئے ہیں تب بھی آپ کو اعتراض کا کوئی حق نہیں آپ اپنی تاریخ کو بھلا کر کس طرح اعتراض کر سکتے ہیں۔مذہبی مظالم کے سلسلہ میں یورپ کی ایسی بھیا نک تاریخ آپ کے سامنے کھلی پڑی ہے کہ ایک ملک کی ایک ملکہ نے اپنی تھوڑی سی زندگی کے دور میں پانچ پانچ ہزار معصوم لوگوں کو زندہ آگ میں جلوا دیا اس الزام پر کہ وہ جادوگری کرتی تھیں یعنی ایسی عورتیں جن کے اوپر الزام تھے کہ یہ جادوگر نیاں ہیں۔اور وہ پینتی چلاتی انکار کرتی رہیں کہ جادو گری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہمیں علم ہی نہیں کیہ جادوگری ہوتی کیا ہے؟ اس کے با وجود انہیں جلا دیا گیا میں صرف ایک ملکہ کا ذکر کرتا ہوں جو انگلستان کی ملکہ تھی تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ صرف اس کے زمانے میں پانچ ہزار عورتوں کو زندہ آگ میں جلایا گیا ہے۔اس الزام کے نتیجے میں کہ وہ جادوگرنیاں