سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 19
19 دوسرے صاحب جو سائیکل پر تشریف لائے تھے انہوں نے تو بہت ہمت کی ہے 75 سال کی عمر ہے اور تھر پارکر سے آئے ہیں اور صرف ایک دن میں انہوں نے 110 میل سائیکل چلایا۔ان کے ساتھی جو نسبتاً جوان ہیں ( غالبا 42 سال کی عمر ہوگی ) انہوں نے کل مسجد مبارک میں نماز مغرب کے بعد یہ واقعہ سنایا کہ جب ہم چلنے لگے تو میر اصرف یہی ایک ساتھی تھا اور تھا کوئی نہیں مجھے بڑی فکر پیدا ہوئی میں نے صاف جواب دے دیا کہ میں ان کے ساتھ نہیں جاسکتا پھر میں نے مزید تسلی کی خاطر ان کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا کہ بابا جی کدی گوڈے وچ درد ہوئی اے۔وہ کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا کدی ہٹی نہیں۔ہوئی تے ہوئی ہٹی کدی نہیں یہ تھے دوسائیکل سوار جور بوہ آنے کے لئے تیار بیٹھے تھے اور کوئی تیسرا شامل نہیں ہو رہا تھا۔اس پر قائد صاحب ضلع نے اس نوجوان نو مسلم کو جو پچھلے سال بھی آئے تھے اور اس سال خدام الاحمدیہ کے اجتماع پر بھی سائیکل پر تشریف لائے کھڑے پاؤں کہا کہ آپ تیار ہو جائیں انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں حاضر ہوں۔تب ان کو ہمت ہوئی ان کو ساتھ لانے کی یہاں تک تو ان کو باباجی کے اوپر باتیں کرنے کا موقع ملا۔کہتے ہیں۔سو سنار دی اک لوہار دی یعنی سوسنار کی ایک لوہار کی۔ان باتوں کے بعد میں نے بابا جی سے پوچھا کہ آپ بتائیں آپ کو رستے میں گھٹنے کی درد نے پھر تکلیف تو نہیں دی۔انہوں نے کہا سارے رستے ہوئی نہیں اس کو ہوتی رہی ہے اور اتنی ہوئی ہے کہ اس نے درد کے لئے تیل کی ایک بوتل ساتھ لی اور وہ کہیں جھنگ میں بھول گیا تو سارا رستہ رو تا آیا کہ میری تیل کی بوتل رہ گئی ہے۔اللہ کی شان دیکھیں جب خدا کے فضل سے انصار جوان ہونے کا ارادہ کرتے ہیں تو خدا کے فرشتے اوپر سے جوانی کا حکم دے دیتے ہیں کہ ہو جاؤ جوان۔اس لئے آپ اپنی ہمتیں جو ان کریں۔آپ پر اللہ کے فضل نازل ہوں گے اور ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا۔کل شام میں نے کھانے کے موقع پر اپنے نہایت مختصر خطاب میں ایک واقعہ سے متعلق وعدہ کیا تھا کہ انشاء اللہ کل اس کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ہم یورپ میں گئے ہیں۔خمینی صاحب ساتھ رہے ہیں۔خمینی صاحب کے بارہ میں سوالات کا جواب جہاں تک ثمینی صاحب کا تعلق ہے وہ ایک معزز قوم کے ایک معز ز سردار ہیں۔ان کی عزت اور احترام سب پر فرض ہے۔جس حد تک ظاہری اخلاق اور معاملات کا تعلق ہے ہمیں ہر قومی سردار کی عزت کرنی چاہئے جہاں تک بعض کمزوریوں کا تعلق ہے۔وہ کس قوم میں نہیں ہوتیں۔بعض لوگ کئی غلط فیصلے کر دیتے ہیں جن کے نتیجے میں بداثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ انہی بداثرات کے نتیجے میں یورپ کی پریس کانفرنسوں میں ہر جگہ ثمینی صاحب کا نام لیا گیا۔سارے