سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 303
303 ہے۔بعض نے یہ کہا کہ ہم اب احمدی ہوئے ہیں۔اس سے پہلے کا زمانہ جہالت میں گزرا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کسی بندے کا کمال نہیں ہے بلکہ غیر معمولی خدا کا فضل اور اُس کا غیر معمولی احسان ہے اُس کی ایک ایسی تقدیر ہے جو جاری ہوئی ہے جس کا ہمیں کوئی گمان میں نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ ان رابطوں کو بڑھاتا رہے اور مضبوط تر کرتا چلا جائے۔ایک سے زیادہ رابطے قائم کرنے کے سامان فرمائے اور اس طرح جماعت کی عالمگیر تربیت کی توفیق عطا ہو۔پاکستان میں ایم ٹی اے کی برکات اس ضمن میں بعض پاکستان سے آنے والے خطوط کے اقتباس میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جس سے آپ کو اُن لوگوں کے جذبات کا اندازہ ہوگا جن سے کئی سال ہوئے ملاقات نہیں ہو سکی۔ایک دن میں روزانہ بیسیوں خط ملتے ہیں یہ تو ناممکن ہے کہ سارے کے سارے خطوط کے مضامین سے جماعت کو آگاہ کرسکوں۔لیکن دو تین نمونے میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔سیٹلائٹ کے ذریعے براہ راست خطبات سننے کی غرض سے، ڈش انٹینا وغیرہ لگوانے کی غرض سے احباب غیر معمولی قربانی ، محبت اور شوق سے حصہ لے رہے ہیں۔ایک ضلع کے ایک گاؤں کی بچیوں کی شادی ایسے گاؤں میں ہوئی جہاں ڈش انٹینا کا انتظام نہیں تھا جبکہ اُن کے اپنے میکے میں یہ انتظام تھا تو وہاں جاتے ہی ان بچیوں نے سب سے پہلا یہ کام کیا کہ شادی کے تمام تحائف خرچ کر کے ڈش انٹینا کا انتظام کرایا اور اُن کا اپنا اس قربانی کے بعد تاثر یہ تھا جو خوشی شادی کی اس بات سے ہوئی ہے اس کے بغیر خوشی کا کوئی تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا۔پس احمدی بچیوں کے اندر بھی ایک ذاتی لگن پیدا ہوگئی ہے اور دلہنیں اپنے تحفے بیچ بیچ کر یا روپے پیش کر کے اس رابطے کا انتظام کر رہی ہیں اور ہمیشہ جو اطلاعیں ملتی ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ دن بدن زیادہ دیہات میں اور دیہات میں ایک سے زیادہ رابطوں کے سامان پیدا کئے جارہے ہیں۔ایک دلچسپ اقتباس ایک جماعت کی طرف سے ایک خاتون نے خط لکھا ہے، اُس کا اقتباس ہے۔اب اللہ کے فضل سے ہمارے گاؤں میں جو ڈش انٹینا لگا ہے وہ ایک آدمی نے اپنے گھر لگوایا ہے اور وہ انٹینا بہت بڑا ہے پہلے تو سنا تھا کہ ہم سب اُن کے گھر میں جا کر خطبہ سنا کریں گے پھر انہوں نے یہ اعلان کروایا میں نے ایک ایسا پرزہ لگایا ہے کہ جس سے گاؤں کے ہر گھر میں بغیر انٹینا کے ٹیلی ویژن رابطہ قائم ہو گیا ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ اُس کے نتیجے میں نہ صرف احمدی بلکہ خدا کے فضل سے کثرت سے غیر احمدی بھی اپنے گھروں میں بیٹھے خطبہ سنتے ہیں اور وہ غلط فہمیاں جو ہم ہزار کوشش سے دور نہیں کر سکتے تھے وہ ہر خطبے کے موقع پر از خود دور ہوتی چلی جارہی ہیں۔فاصلے مٹ رہے ہیں اور لوگ قریب تر آ رہے ہیں لیکن لکھتی ہیں کہ سب سے زیادہ قابل رحم حالت گاؤں کے مولویوں کی ہے وہ جس گلی سے گزرتے ہیں آپ کی آواز آ رہی ہوتی ہے اور اُن