سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 293
293 ہے بدی کی طرف میرا رجحان ہوا ہے لیکن ان باتوں کو سوچتے سوچتے جب آپ سو جاتے ہیں تو سوتے ہوئے تحت الشعور میں جو ہلچل مچتی ہے اور تمنائیں آپ کو خاص سمتوں میں روانہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں آپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے۔آپ نیند سے بظاہر بڑے مزے سے آنکھیں ملتے ہوئے بیدار ہوتے ہیں اور ایک نیا دن شروع کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ رات کے بھوت اس نئے دن میں بھی آپ کا تعاقب کر رہے ہوتے ہیں، ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور وہ دکھائی نہیں دیتے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے نفس میں بعض بدیاں کرنے کے فیصلے ہو چکے ہوتے ہیں۔لاشعوری طور پر ہو چکے ہوتے ہیں اور آپ کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ میرے نفس نے رات کیا فیصلے کئے ہیں۔لیکن آئندہ جب آپ کو آزمایا جاتا ہے تو وہ رات کے فیصلے دن کے فیصلے بن جاتے ہیں۔پھر آپ شعوری طور پر وہی حکم مانتے ہیں جو آپ کا لاشعور آپ کو دے رہا ہے۔پس یہ بہت ہی گہرا مسئلہ ہے جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے کہ شیطان وہاں سے حملے کرتا ہے جہاں سے دکھائی نہیں دیتا۔مومن کا کام ہے کہ ان جگہوں کی نشان دہی کرے ، ان کو پہچانے اور ان کے مقابل پر مستعد رہے اور تمام دفاعی منصوبے بنائے اور حکمت کے ساتھ ان تمام سوراخوں کو بند کرے جہاں سے سانپ بچھو اور دیگر موذی جانور داخل ہوا کرتے ہیں۔شادی کا امریکی قانون بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو مغرب میں عام ہوتی جارہی ہیں لیکن امریکہ میں وہ بنتی ہیں اور وہیں سے اکثر باقی دنیا کو وہ برآمد کی جاتی ہیں ان میں ایک Pregnancy and Birth out of Wedlock ہے اس کو میں نے انگریزی میں بیان کیا ہے مطلب یہ ہے کہ ایسے بچے پیدا ہونا جن کو مذہبی قانون کی طرف سے پیدا ہونے کا کوئی حق نہیں ہے میں نے مذہبی قانون اس لئے کہا ہے کہ دنیا میں بہت سے مذاہب ہیں خواہ ان کا تعلق خدا سے ٹوٹ بھی چکا ہو وہ بھی جب با قاعدہ اپنی شادی بیاہ کی رسوم کے مطابق میاں بیوی کو ملاتے ہیں تو ہر مذہب کی رو سے وہ بچے جائز ہیں اور ان کا حق ہے۔پس خواہ وہ خدا سے بے تعلق بھی ہو چکے ہوں یہ اللہ کی رحمت عامہ ہے کہ اس نے یہ حق ساری دنیا کے مذاہب کو یا روا جات کو یا قوانین کو دے رکھا ہے مذاہب کے علاوہ بھی وہ تمام رواج ، تمام قوانین ، تمام رسمیں، جن کی رو سے مرد اور عورت کو میاں بیوی قرار دیا جاتا ہے اس کے بعد جو بھی اولاد پیدا ہوتی ہے مذہب کی نظر میں یعنی خدا کی نظر میں وہ جائز اور درست ہے۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ اسلامی طریق پر شادی ہو یا کسی ہندوانہ طریق پر مذہبی بنیادی قانون جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے یہی ہے کہ ہر قوم میں اپنے رسم و رواج کے مطابق جو شادیاں ہوتی ہیں ان کی اولا د درست ہے ، اولا د درست سے مراد یہ ہے کہ اولاد کا پیدا ہونا ایک تسلیم شدہ قانون حق ہے۔