سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 292

292 سے نکل چکے ہوں گے پھر وہ ان کی بات مانیں گے اور آپ کی رڈ کردیں گے کیونکہ غیر کی بات میں ان کے نفس کی تمنائیں ساتھ شامل ہیں۔غیر وہ باتیں کرتا ہے جس کی طرف نفس کا رجحان اور بہاؤ ہے انسان اس طرف جانا چاہتا ہے جس طرف بلایا جارہا ہے اور دوسری طرف وہ ہے جہاں جانا نہیں چاہتا یعنی مشکل کام ہے۔بے لذت کام ہے ایک بوجھ ہے طبیعت پر اور جذبات کی کئی قسم کی قربانی کرنی پڑتی ہے۔پس خلاصۂ ہماری تربیت کے مسائل یہی ہیں ان پر مزید تفصیل کے ساتھ نظر رکھنا اور ہر سوسائٹی کی طرف سے جو خطرات در پیش ہیں ان کو پیش نظر رکھ کر پیش بندی کرنا اور سوراخوں کو بند کرنا یہ رابطوا (ال عمران : 201) کے تحت قرآنی تعلیم ہے جس کے بڑے وسیع معنی ہیں۔خطرات کی نشاندہی کرو اور ان کے داخل ہونے کے سوراخوں کو بند کرلو یہ بھی پیغام ہے کہ جن جن ملکوں میں تم رہتے ہو اور جن جن سوسائٹیوں میں تم بستے ہو وہاں کے خصوصی خطرات کی نشاندہی کرو اور ان سوراخوں کو بند کر لو جہاں سے وہ خطرات داخل ہوا کرتے ہیں جیسے چوہوں کے بلوں کو بند کیا جاتا ہے جیسے ان سوراخوں کو بند کیا جاتا ہے جہاں سے سانپ بچھو داخل ہو جایا کرتے ہیں اسی طرح انسانی اخلاقی دنیا کا حال ہے یہ واقعہ جانور ہیں جو آیا کرتے ہیں۔فرضی باتیں نہیں ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ شیطانی نظام کن معنوں میں کس طرح وسعت پذیر ہے۔کہ ہر حال میں کسی نہ کسی طرح انسان تک پہنچ جاتا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی ایسا شیطان ظاہری طور پر الگ وجود ہے بھی یا نہیں یا ہر شیطان انسان کے نفس میں ہی ہے ان بحثوں سے الگ یہ بات قطعی ہے کہ شیطان ہے ضر ور خواہ وہ خون میں دوڑ رہا ہو یا با ہر سے حملے کر رہا ہو اس کے حملے دکھائی دیتے ہیں اور نظر آتے ہیں اس کے وسوسے انسان ہر روز سنتا ہے اور ہر روز اکثر ان کے حق میں جواب بھی دے دیتا ہے، ہر قسم کے وسو سے جو نیکی سے بدی کی طرف کھینچتے ہیں وہ آنکھ کھلنے سے شروع ہو کر رات آنکھ لگنے تک جاری رہتے ہیں اور پھر آنکھ لگنے کے بعد بھی وہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے کہ جو لوگ بد وساوس کا شکار رہتے ہیں بری تمنائیں پالتے ہوئے دن بسر کرتے ہیں آنکھ لگنے کے بعد نیند کے بعد بھی ان کی خواہیں اسی مضمون کی چلتی ہیں۔وہ جو دن کے وقت کچھ کمی رہ گئی تھی وہ خوابوں کی دنیا میں پوری ہو جاتی ہے خواہ وہ خواہیں یا در ہیں یا نہ رہیں لیکن یہ ایک طے شدہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جیسی سوچیں لے کر انسان سوتا ہے ویسی ہی اس کو خوا میں بھی آتی رہتی ہیں اور پہلے جو شعوری پیغام ملا کرتے تھے اب وہ پیغام تحت الشعور میں ملنے شروع ہوتے ہیں اور بعض دفعہ وہ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ تحت الشعور کے پیغام اور زیادہ پوشیدہ ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ شیطان وہاں سے حملے کرتا ہے جہاں سے تم دیکھ نہیں رہے۔پس دن کے جو خیالات ہیں ان میں انسان کسی حد تک واقف ہوتا ہے کہ ہاں مجھے بدی کا پیغام ملا 600