سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 237
237 $1992 مسیح کے انصار اور اللہ کے انصار بنا دو مختلف چیزیں نہیں ہیں نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ کی لطیف تشریح خطبہ جمعہ 7 فروری 1992ء) "سب سے اول اور سب سے آخر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی ہیں۔تمام پیشگوئیاں جن میں احمد کی پیشگوئی بھی شامل ہے اول طور پر حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہی ہیں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کے متعلق یہ پیشگوئی ہے اور آپ کی صفات کا ذکر ہے تو ان معنوں میں نہیں کہ صرف آپ کے لئے یہ مخصوص تھیں اور کسی اور کے لئے نہیں بلکہ ان معنوں میں کہ یہ تمام پیشگوئیاں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلاموں کے لئے ہیں اور جو صفات حسنہ بیان ہوئیں وہ بھی آپ کے غلاموں پر صادق آتی ہیں لیکن آخرین کے پل کے ذریعہ، آخرین کے رابطے کے ذریعہ جسے سورۃ جمعہ نے ہمارے سامنے رکھا آپ کو اولین سے ملایا گیا ہے اور ملانے کے معانی یہ تو بہر حال نہیں لئے جا سکتے کہ ایک وقت میں یا ایک جگہ پر اکٹھے ہو جائیں گے۔نہ ہم جگہ کے لحاظ سے، نہ ہم وقت کے لحاظ سے ان اولین میں شامل ہو سکتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں بار ہا فرمایا گیا۔پس ملنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ صفات کے ذریعے ملنے کی صورت ہے، اخلاق کے ذریعے ملنے کی صورت ہے ، کردار کے ذریعے ملنے کی صورت ہے اور لگن کے ذریعے ملنے کی صورت ہے۔پس یہی وہ مضمون ہے جو سورہ صف میں اس رنگ میں بیان فرمایا گیا کہ اولین پر تو ضرور صادق آیا لیکن آخرین پر بھی صادق آئے گا اور لازم تھا کہ صادق آتا کیونکہ اس کے بغیر آخرین کو اولین سے ملایا جانا ممکن نہیں۔قرآن میں بیان روحانی تجارت کا ذکر ہوں۔فرمایا: پس اس وضاحت کے ساتھ اب آپ اس تر جمہ کو پیش نظر رکھیں جو میں آپ کے سامنے پڑھ کرسنا تا يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا هَلْ اَدْلُكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيَّكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ 0 اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمہیں ایک تجارت کی اطلاع نہ دوں۔ایک تجارت کی خبر نہ دوں جو تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گی۔دنیا کی کوئی تجارت ایسی نہیں جو کسی کو دردناک عذاب سے بچا