سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 236
236 اپنے دل میں حشر برپا کریں تا اس میں صوراسرافیل پھونکا جاسکے ( خطاب اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی 12 مئی 1991ء) " پس خدام الاحمدیہ ہو یا انصار اللہ ہو یا لجنہ اماء الله ، ان کے ناصحین ، ان کے عہد یداریا جماعت کے عمومی عہد یدار ہوں آپ کو اس وقت بُرے لگتے رہیں گے جب تک آپ کے دل میں بُرے بُرے نام موجود ہیں۔اپنے دل کے بُرے ناموں کو مٹادیں، اپنے دلوں کے بتوں کو پاش پاش کردیں، اپنے اندر عاجزی پیدا کریں، اپنے اندر نیکی کی محبت پیدا کریں ، اپنے دل سے ایک ناصح اٹھائیں ، دل میں ایک حشر برپا کریں جس میں صور اسرافیل پھونکا جائے۔وہ صور پھونکا جائے جس کے نتیجے میں نئی زندگی عطا ہوتی ہے۔تب خدا تعالیٰ آپ کو اپنے اندر ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔اس کے بغیر آپ دنیا کی اصلاح نہیں کر سکتے۔کیسے دنیا کی پولیوشن دور کریں گے جبکہ آپ گندی رسمیں، بیہودہ باتیں ، گھٹیا کمینی با تیں ( جن سے عام انسانیت کو بھی شرم آتی ہے ) سمیٹے اور سنبھالے ہوئے جہازوں میں سفر کرتے اور کہیں جائز اور کہیں ناجائز بارڈر پار کرتے ہوئے آپ ایک ملک میں داخل ہوتے ہیں اور ان کی فضا کو گندہ کرنے لگتے ہیں۔یہ کون سی شرافت ؟ اس کا کس نے آپ کو حق دیا ہے؟ یہ حرکتیں کر کے آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیسے منسوب ہو سکتے ہیں۔ہرگز نہیں۔خدا کا خوف کریں ، سوچیں! یہ اچھی باتیں نہیں ہیں۔خصوصاً گھروں میں جو گھٹیا باتیں ہو کر ، کمینے جھگڑتے چلتے ہیں اس کے نتیجے میں ماحول پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔کئی سوشل ورکرز ہیں جو واقعی سچی انسانی ہمدردی کے ساتھ آنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔ان میں سے ایک خاتون ایک دفعہ مجھے ملیں۔بہت بے چین تھیں کہ عجیب قسم کے کچھ لوگوں سے پالا پڑتا ہے۔بہت چھوٹی چھوٹی باتوں میں ملوث ہوتے ہیں اور دل کو تکلیف پہنچتی ہے کہ کیوں یہ اپنے لئے بھی ایک آزار بنائے بیٹھے ہیں اور دنیا کے لئے بھی آزار بنے ہوئے ہیں۔" مشعل راه جلد 3 صفحه 495-496)