سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 225

225 مطلب یہ ہے کہ یہ ان کی مستقل صفت بن چکی تھی یعنی آج یا کل یا کبھی کبھی اتفاقی نصیحت کرنے والے نہیں تھے بلکہ ہمیشہ کی زندگی میں ہر مشغلے میں نصیحت ان کے وجود کا حصہ بن گئی تھی اور آپ کی ذات میں وہ نصیحت ایسی شامل ہو چکی تھی کہ خدا نے خود آپ کا مذکر ہمیشہ کا دائمی نصیحت کرنے والا نام رکھ دیا۔پس اس لئے بھی نصیحت کی ضرورت پڑتی ہے۔ضروری نہیں کہ انا نیت کا ہی کوئی شعبہ سراٹھارہا ہو۔انسانی غفلت ہے، کمزوریاں ہیں جو نصیحت کو سن کر ان کو بھلا دینے کی طرف انسان کو مائل کر دیتی ہیں۔پس اس پہلو سے جب میں عہد یدار ان کو نصیحت کرتا ہوں یا ان کے متعلق بعض دفعہ یہ تبصرے کرتا ہوں تو ان کی دل آزاری ہرگز مقصود نہیں۔میں امید رکھتا ہوں وہ تمل سے سنیں گے اور یہ واقعاتی تبصرے ہیں۔ان سے مفر نہیں یعنی ان کو بیان کئے بغیر بات پوری کھلے گی نہیں۔واقعہ یہی ہے کہ میں کہتا چلا جاتا ہوں اور پیچھے سے باتیں بھلائی چلی جاتی ہیں اور یہ سلسلہ بڑی دیر سے جاری ہے۔چنانچہ میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ساری جماعت کو وہ باتیں سمجھاؤں کیونکہ ساری جماعت کو اگر علم ہو کہ ہمارے متعلق یہ توقعات ہیں۔یہ ہمیں لائحہ عمل دیا جارہا ہے تو اگر عہدیداران کبھی غافل بھی ہوں تو جماعت ان کو بیدار کرے گی اور جماعت کے علم میں براہ راست آئے گا کہ ہم سے کیا توقعات ہیں اور ہمیں ان توقعات کو پورا کرنے کے لئے کیا مدددی جارہی ہے یا کی مدددی جانی چاہیئے۔عہدیداران کو جماعتی معلومات کا ہونا بہت ضروری ہے اس ضمن میں پہلی بات تو میں یہ سمجھانی چاہتا ہوں کہ معلومات کی کمی خود بہت بڑے نقصان کا موجب بنتی ہے۔اب جو خطبے میں دوں گا مجھے امید ہے کہ اس کے نتیجہ میں فائدہ پہنچے گا کیونکہ معلومات عام ہوں گی لیکن جو نصیحتیں میں کرتا رہا ہوں ان کو جماعت تک پہنچایا نہیں گیا اور جماعت کی بھاری اکثریت ان سے غافل ہے۔ان کو علم ہی نہیں کہ کیا توقعات تھیں ، کس طرح ان توقعات کو پورا کرنے کے لئے میرے ذہن نے نقشے بنائے اور کس طرح میں نے احباب جماعت کو عہدیداران کو سمجھانے کی کوشش کی؟ معلومات کی کمی کا یہ حال ہے کہ اکثر احباب جماعت کو جو ترقی یافتہ ممالک میں رہتے ہیں اور مستعد ہیں اور جہاں ذرائع ابلاغ بہت ہی اعلیٰ درجے کے اور ہر شخص کو مہیا ہیں ، وہاں بھی عام باتوں کا بھی احباب جماعت کو علم نہیں ہے۔مثلاً ان کا اگر کوئی دوست بنتا ہے جو بلغارین زبان بولنے والا ہے تو وہ گھبرا کر مجھے خط لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا بلغارین زبان میں بھی کوئی لٹریچر موجود ہے۔بعض دفعہ عربی کے متعلق پوچھتے ہیں کہ کوئی کیسٹ ہو، کوئی ابتدائی معلومات کی کتابیں ہوں تو ہمیں بتائی جائیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ جماعت اس وقت تک لٹریچر کی تیاری میں اور آڈیو ویڈیو سامانوں کی تیاری میں کس حد تک آگے جا چکی ہے اور کیا کیا چیزیں مہیا ہو چکی ہیں؟ اگر کثرت کے ساتھ یہ معلومات بہم پہنچائی جائیں اور جماعت کے اخبارات ورسائل میں بار بار یہ بیان کی جائیں اور عہدیداران کے ذریعہ بھی اعلان کروائے جائیں۔کبھی کبھی چھوٹے چھوٹے