سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 224
224 بیچ میں حائل نہیں ہونے دیا۔میں جب یہ کہتا ہوں تو مراد یہ نہیں کہ باقی سب نے ایسا کیا ہے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ خدا کے فضل سے اگر جماعت کے تمام عہدیداران نہیں تو بھاری اکثریت متقی ہے اور ان کی انا کچلی جاتی ہے تو وہ خدمت کے لئے آگے آتے ہیں لیکن اس کے باوجود انا کے بہت سے مخفی پہلو ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں انسان کے کاموں میں بھی اور اس کی سوچوں میں بھی حائل ہوتے رہتے ہیں اور جہاں تک میں نے غور کیا ہے سوائے انبیاء کے کسی کی انا ہمیشہ کے لئے کلیۂ کچلی نہیں جاتی اس لئے میں جب یہ کہتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں ان کو نعوذ باللہ ادنی سمجھتا ہوں یا تقویٰ کے خلاف باتوں میں ملوث دیکھتا ہوں بلکہ یہ ساری جماعت کے لئے ایک عام نصیحت ہے کہ اپنی انا سے ہمیشہ خبر دار ہیں۔وہ دب جاتی ہے لیکن مٹتی نہیں اور موقع کی تلاش میں رہتی ہے۔اس کا حال جراثیم کی طرح ہے صحت مند انسان کے جسم میں بھی وہ جراثیم اس کے خون میں دوڑ رہے ہوتے ہیں لیکن انہیں موقعہ نہیں ملتا کہ وہ نشو نما پاسکیں کیونکہ صحت مند جسم ان کو دبا کر رکھتا ہے اور اجازت نہیں دیتا کہ وہ سراٹھائیں لیکن حقیقت میں کامل طور پر اگر کسی کی انا مری ہے تو حضرت اقدس محمد مصطفی اصلی اللہ علیہ وسلم کی ہی انا ہے کیونکہ آپ نے انا کا نام ہی شیطان رکھا ہے اور شیطان کے متعلق فرمایا کہ ہر انسان کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔اس کی نسوں میں دوڑ رہا ہے۔اس کے وجود کے اندر شامل ہے۔اس پر کسی نے سوال کیا کہ یارسول اللہ آپ کے اندر بھی شیطان ہے۔آپ نے فرمایا ہاں ہے لیکن مسلمان ہو چکا ہے ( ترمذی کتاب الرضاع حدیث نمبر : 1091) تو انسانی فطرت کے اندر یہ جو سر اٹھانے کا اور کسی نہ کسی رنگ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے کا فطری جذ بہ ہے اسی کا نام حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان رکھا ہے اور آپ کا یہ فیصلہ قرآن پر مبنی ہے کیونکہ قرآن نے سب سے پہلے شیطان کا جو تعارف کرایا ہے وانا نیت کے سر اٹھانے والے ایک وجود کے طور پر پیش فرمایا ہے اَنا خَيْرٌ مِّنْهُ (الاعراف : 13 ) کی آواز شیطان کی طرف منسوب فرمائی تو در حقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں بیرونی شیطان بھی ہوں گے اور ہوتے ہیں۔انسانی شکلوں میں بھی اور اس کے علاوہ بھی ممکن ہیں لیکن ایک شیطان جو محقق ہو چکا ہے جس کے متعلق ہمیں آخری دربار سے آخری فیصلہ مل گیا ہے وہ انسانی فطرت کے اندر اس کی انانیت ہے۔انا نیت سے پاک عہدیداران نصیحتوں سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں پس وہ عہدیداران جوانا نیت کو کچلنے میں زیادہ اعلیٰ مقامات پر فائز ہوتے ہیں وہ ہمیشہ فصیحتوں سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن صرف یہی ایک روک نہیں ہے جو حائل ہے۔انسانی فطرت کے اندر بات سن کر اثر کو قبول کرنے کا مادہ بھی ہے اور بات سننے کے کچھ عرصہ بعد اس کو بھلا دینے کا مادہ بھی ہے اسی لئے قرآن کریم نے بار بار اور بار بار اور بار بار نصیحت کا حکم دیا ہے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکر کہنے کا