سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 221
221 کر سکتے ہیں۔دعاؤں اور مسلسل محنت کے ذریعہ کچھ نسلوں کو آپ سنبھال سکتے ہیں مگر آپ کے ماحول میں اردگرد جو لوگ رہتے ہیں وہ آپ سے بحیثیت قوم متاثر نہیں ہو سکتے۔انفرادی طور پر ہو سکتے ہیں مگر کونسا ملک ہے جہاں یہ کہا جا سکے کہ احمدی معاشرہ غالب آ گیا ہے اور وہ ایک مثال بن گیا ہے اور تمام ملک کے باشندوں کی نظریں اس معاشرے کی طرف اٹھ رہی ہوں جب تک یہ واقعہ نہیں ہوتا ہماری تمدنی اور معاشرتی قدروں کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔اس لئے یورپ کے ممالک میں خصوصیت کے ساتھ احمدیت کو ایک جھرجھری لے کر بیدار ہونا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ بظاہر وہ بیدار ہیں لیکن ابھی خواب میں ہیں۔نئے ارادوں کے ساتھ اٹھنا چاہئے اور نئے عزم کے ساتھ نئے منصوبے بنانے چاہئیں اور دعائیں کرتے ہوئے اس سفر کا آغاز کرنا چاہئے جس کا اکثر جگہ آغاز بھی نہیں ہوا۔بہت ہی طمانیت کے ساتھ اور بہت ہی خود اعتمادی کے ساتھ بعض یورپ کے امراء مجھے لکھتے ہیں کہ الحمد للہ خدا کے فضل سے آپ کی دعاؤں سے اس سال ہمیں 70 بیعتیں ملی ہیں جبکہ گزشتہ سال مثلاً 55 تھیں اور میں کہتا ہوں اللہ رحم کرے میری دعائیں اگر ایسی ہی ہیں تو اللہ میرے اوپر بھی رحم کرے۔میں تو دعائیں کرتا ہوں کہ ہزاروں لاکھوں میں تبدیل ہوں اور مجھے یہ کہہ رہے ہیں کہ تمہاری دعاؤں سے 70 ملی ہیں۔میں کہتا ہوں اللہ مجھے معاف کرے یہ کیسی دعائیں ہیں جو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلِكَ ایسی نا مقبول ہیں مگر دعائیں بھی اس وقت قبول ہوتی ہیں جب دعا ئیں جن کے لئے کی جاتیں ہیں وہ صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔یہ یاد رکھیں کہ اولاد کے حق میں بھی دعائیں نہیں لگا کرتیں اگر اولا دان کو قبول کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو اور اسے تمنا ہی نہ ہو۔یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کا ایک عجیب مضمون ہے جس میں فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (الکہف: 30) کا مضمون خدا کی تقدیر میں ہر جگہ صادق آتا ہے۔ہر شخص کی اپنی تمنا اور خواہش کا اس کی زندگی کا رخ ڈھالنے میں ایک گہرا تعلق ہے اور محض دوسرے کی دعا ئیں کارگر ثابت نہیں ہوتیں جب تک وہ خود ان دعاؤں کے رخ پر چلنے کی تمنا پیدا نہ کرے۔ہوائیں ضرور سفر میں محمد ہو جایا کرتی ہیں۔سمندری سفروں میں بھی اور دنیا کے عام سفروں میں بھی ہوائی جہازوں کی بھی ہوائیں مدد کرتی ہیں۔اور موٹروں کی بھی مدد کرتی ہیں۔پیدل چلنے والوں کو بھی مدد کرتی ہیں لیکن جو ہوا کے مخالف چل رہا ہو اس کی کیسے مدد کر سکتی ہیں۔اس لئے دعاؤں کا مضمون بھی ہواؤں سے ایک نسبت رکھتا ہے۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے دعاؤں کے رخ پر سفر کرنا ضروری ہے پس یا درکھیں کہ آپ کے حق میں آپ کی اپنی دعائیں یا میری دعائیں یا ان بزرگوں کی دعائیں