سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 220 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 220

220 ملے تو بعض دفعہ آہستہ آہستہ زنگ لگنے شروع ہو جاتے ہیں اور غیر معاشروں سے وہ مغلوب ہونے لگ جاتے ہیں۔اس لئے معاشرے کے اندر ایک طاقت پیدا ہونی چاہئے اور وہ تعداد کے بڑھتے رہنے سے ہوتی ہے۔وہ طاقت جواس یقین کے ساتھ پیدا ہوتی ہے کہ ہم غالب آرہے ہیں اسکے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اقدار کی بھی حفاظت ہوتی ہے ورنہ دیر تک ترقی نہ ملنے کے نتیجہ میں یا سست روی کے نتیجہ میں رفتہ رفتہ جو کچھ انسان نے حاصل کیا ہے وہ بھی ہاتھ سے جانے لگتا ہے اور قومیں روحانی لحاظ سے تنزل اختیار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔آج روحانی بقا کے لئے تیزی سے آگے بڑھنا ضروری ہے پس بہت سے ایسے محرکات ہیں، بہت سی ایسی وجوہات ہیں جن پر نظر رکھتے ہوئے میں یقین رکھتا ہوں کہ ہماری روحانی بقا کے لئے آج تیز رفتاری سے آگے بڑھنا ضروری ہے۔آج ہمیں ایسے ممالک چاہئیں جہاں جماعت احمدیہ غالب آکر ایک غالب معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کر سکے ورنہ اپنے معاشرے کی صحت پر ہی نئی نسلوں کو یقین نہیں رہے گا۔بہت سے ایسے لوگ ہیں جن سے گفتگو ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں ٹھیک ہے احمدیت اچھی ہوگی مگر وہ کون سی جگہ ہے جہاں احمدیت نے دنیا کی حالت تبدیل کر کے ایک پُرامن معاشرہ پیش کیا ہو جس کے نتیجہ میں ہم کہہ سکیں کہ ہاں یہ تجر بہ باقی دنیا کے لئے بھی لائق تقلید ہے۔ایسا کوئی ملک ہمیں نظر نہیں آتا۔بستیاں کچھ دکھائی دیں گی مگر ایسی بستیاں جن پر غیر معاشرے کے غلبہ کی وجہ سے اچھی چیز میں بُری چیز کی ملاوٹ ہے اور کوئی بھی ایسی بستی نہیں دکھائی جاسکتی جس کو ہم کہہ سکیں کہ ہاں یہ خالصہ احمدی معاشرے کی نمائندہ ہے کیونکہ اس پر احمدیت ہی اثر انداز ہوئی ہے اور باقی اثرات سے اس بستی کو بچایا گیا ہے۔یہ غلبہ کے نتیجہ میں ہوا کرتا ہے۔پس مجھے ایک کوڑی کی بھی دلچپسی سیاسی غلبہ میں نہیں مگر اس بات میں دلچسپی ہے کہ احمدیت کو تمدنی اور معاشرتی غلبہ نصیب ہو اور اس کا ایک تعلق سیاسی غلبہ سے ضرور ہے خواہ سیاست کی آپ کو ایک کوڑی کی بھی پرواہ نہ ہو۔آپ کو ملکوں میں تمدنی غلبے حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور عددی اکثریت کے بغیر یہ غلبہ حاصل ہو نہیں سکتا۔اس لئے اور باتوں کے علاوہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ پھیلنا ، پھولنا، پھلنا بڑھنا شروع کر دیں اور ہر ملک میں ایک انقلابی تبدیلی واقع ہو۔پس امراء کو چاہئے اور ان کے ساتھ دوسرے خدمت کرنے والوں کو چاہئے کہ اس مضمون کی اہمیت کو تو سمجھیں۔بہت ہی اہم مضمون ہے۔امریکہ ہو یا یورپ کے دیگر ممالک وہاں اس کثرت سے اسلام کی دشمن قدریں بڑھ رہی ہیں اور نئے عزائم لے کر اسلام پر حملہ کرنے کے لئے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ایسی حالت میں کہ جب آپ کمزور ہیں اتنے کمزور ہیں کہ آپ کا معاشرہ اپنی ذات میں اپنی حفاظت کی اندورنی طاقت بھی نہیں رکھتا تو کہاں تک آپ یہ مقابلہ