سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 214
214 بعض دفعہ محنتیں بے کار چلی جاتی ہیں اور درخت ثمر دار نہیں ہوتے۔عہدیداران، دبے ہوئے مضامین کو نکال کر خود بھی سنیں اور دوسروں کو بھی سنائیں یہ جونشو ونما کا مضمون ہے یہ ساری کائنات کی ترقی کا خلاصہ ہے اور کائنات پر غور کرنے سے خواہ وہ زندگی کے وجود سے پہلے کی کائنات ہو یا زندگی کے وجود کے بعد کی کائنات ہو، انسان کو بہت سے حکمتوں کے موتی ملتے ہیں اور انسان کو اپنی روحانی انفرادی اور جماعتی ترقی کے لئے بہت سے گر ہاتھ آتے ہیں۔پس ان سب مضامین پر غور کے نتیجہ میں جو باتیں اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرما تا رہتا ہے مختلف مواقع پر میں انہیں بیان کرتا رہا ہوں اور بلاشبہ یوں گھنٹے کی وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف کیسٹس میں یا ویڈیوز وغیرہ میں موجود ہیں لیکن دیتی چلی جارہی ہیں۔وہ باتیں کہی جاتی ہیں لیکن جماعت کی بھاری اکثریت کے سامنے وہ نہیں آتیں اور ان کے اندر جو نشو و نما کی صلاحیتیں ہیں انہیں تحریک نہیں ملتی۔اس لئے میں یہ زور دیتارہا ہوں کہ جو عہد یداران ہیں وہ صرف اس بات پر اکتفا نہ کریں کہ میری باتیں سمجھ کر آگے دوستوں تک پہنچا ئیں بلکہ یہ کوشش کریں کہ ان دبے ہوئے مضامین کو نکالیں اور حتی المقدور کوشش کریں کہ وہ احمدی احباب جو دعوت الی اللہ کا جذبہ رکھتے ہیں ان کو یہ چیزیں سنائی جائیں۔مجلس عاملہ کے ممبران بھی سنیں اور بار بار سنیں کیونکہ سننے کے نتیجہ میں کچھ تو ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نئے طریق کار معلوم ہوں گے اور کچھ ان کے اند رخود تحریک پیدا ہوگی۔ہرانسان جو ایک کام کا ارادہ کرتا ہے اور کسی مضمون کو پڑھتا ہے نئے علم کے نتیجہ میں اُسے روشنی کا احساس ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے روشنی مل گئی مگر یہ نہیں جانتا کہ روشنی کا سفر لا متناہی ہے۔ایک روشنی کے بعد آگے بھی روشنی ہوا کرتی ہے اس روشنی کے بعد پھر اور بھی روشنی ہوتی ہے۔وہ لوگ جو خوابوں میں جاگتے ہیں ان کو بھی جاگنے کا ایک احساس تو ضرور ملتا ہے اور وہ شعور حاصل کرتے ہیں کہ جا گنا اس کو کہتے ہیں لیکن جب سچ مچ جاگتے ہیں تو وہ کوئی اور قسم کا شعور ہوا کرتا ہے اور جاگنے کے بعد کچھ عرصے تک آنکھیں ملتے رہنے کے وقت جو جاگ کی کیفیت ہے وہ تبدیل ہو جاتی ہے۔جب پانی کے چھینٹے پڑتے ہیں اور مستعدی کے ساتھ انسان باہر آتا ہے۔پھر جب گھر سے نکل کر باہر دھوپ میں قدم اُٹھاتا ہے تو اس کی جاگنے کی کیفیت میں ایک نیا نور پیدا ہو جاتا ہے۔پھر روزمرہ کی زندگی میں حصہ لیتے ہوئے بہت سی باتیں غفلت کی حالت میں دیکھی جاتی ہیں اور جب انسان کو اندرونی طور پر جاگنے کی توفیق ملتی ہے تو ہر قدم پر اس کو ایک نئی روشنی محسوس ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اب میں جاگا ہوں اور جب انسان معرفت کے مزید درجے حاصل کرتا ہے تو بعض اوقات بڑے بڑے صوفیاء نے آخر وقت یہی محسوس کیا کہ ہم جاگے ہی نہیں تھے بلکہ ایک نسبتی کیفیت تھی۔چنانچہ میر درد نے ایک شعر میں بڑی حسرت سے اس معرفت کا یوں اعلان کیا کہ : وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا