سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 213

213 استعمال کر رہے ہیں اور ان ذرائع کے نتیجہ میں کہیں کوئی پھل بھی لگا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ضروری نہیں کہ وہ ذرائع بریکار سمجھے جائیں بلکہ استعمال کرنے والوں پر بھی نظر کرنی پڑے گی اور بھی بہت سے ایسے اسباب ہیں جن کا ذرائع کے استعمال سے تعلق ہے اور ہر سطح پر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جو ان ذرائع کو استعمال کر رہا ہے وہ ذاتی طور پر خود کیا ہے وہ دعا گو ہے بھی کہ نہیں اور اس کی ذاتی توجہ پورے اخلاص کے ساتھ اور انہماک کے ساتھ ان کاموں کی طرف ہے بھی کہ نہیں؟ پس ذرائع کی چھان بین ان کی جانچ پڑتال، ذرائع کو استعمال کرنے والوں کے حالات اور ان کی جانچ پڑتال پھر ان کی اپنی صلاحیتوں کا جائزہ اور یہ دیکھنا کہ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق ہتھیار استعمال کر رہا ہے کہ نہیں۔یہ ایک اتنا وسیع مضمون ہے کہ اسی پر اگر عہدیداران توجہ دیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک دو دن کی بات نہیں ہے۔مسلسل توجہ اور محنت کا تقاضا کرنے والا معاملہ ہے لیکن اس معاملہ میں میں کچھ باتیں مزید وضاحت سے رکھنی چاہتا ہوں کیونکہ اس قسم کی نصیحتیں میں بار ہا کر چکا ہوں اور وہ پیسٹس بھی سب جماعتوں میں پہنچائی گئی ہیں لیکن چونکہ اکثر ممالک پر اثر نہیں پڑا اس لئے میرا بھی تو یہ کام ہے کہ میں محاسبہ کروں اور دیکھوں کہ میرے اختیار کردہ ذرائع میں کیا نقص رہ گئے تھے اور دوبارہ میں پیش کروں تو کیا نئی بات پیدا کر کے پیش کروں کہ وہ باتیں جو پہلے پھل نہ لا سکی تھیں اب پھل لے آئیں۔جماعت احمدیہ کی زمین الحمد لله زرخیز ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت کی زمین بحیثیت مجموعی زرخیز ہے اور گزشتہ چند سالوں میں جماعت نے مجموعی حیثیت سے تبلیغ میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اس بات پر تو گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ نصیحتیں سب بے کار نہیں گئیں اور محنت ضائع نہیں گئی بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان کوششوں کو پھل ضرور لگایا ہے لیکن کتنی زمینیں ایسی ہیں جنہوں نے بیج کو بڑھا کر واپس کیا ہے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔مجموعی طور پر اضافہ تو ہوا ہے اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن ہر جگہ نہیں ہوا۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جو مثلا ترقی یافتہ ہیں۔یورپ اور امریکہ اور اسی طرح کے ترقی یافتہ ممالک جاپان ہے اور ان ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ کے درمیان کے ممالک جو کچھ تیسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، کچھ دوسری دنیا سے کچھ پہلی دنیا سے یعنی ان کے مختلف طبقات مختلف زمانوں میں بس رہے ہیں ان کے حالات کا بھی آپ جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اکثر ممالک میں ابھی تک ان ذرائع کے نتیجہ میں کوئی نمایاں کامیابی نہیں ہوئی لیکن جہاں ہوئی ہے ان کا میں نے جائزہ لیا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ جہاں اخلاص اور محنت کے ساتھ امیر اور اس کے ساتھ شامل ٹیم نے واقعہ پوری لگن سے کام کیا ہے وہاں یہ بیان کردہ ذرائع کارگر ثابت ہوئے ہیں۔اس لئے ذرائع کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بار بار ان کو یاد کرانے کی ضرورت ہے بار بار مختلف ذرائع استعمال کرنے کے طریق سمجھانے کی ضرورت ہے۔ان خامیوں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جن کے نتیجہ میں