سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 210
210 میرے بوجھ کی فکر نہ کریں اگر کسی کے خلاف شکایت ہے تو مجھے ضرور لکھیں (خطبہ جمعہ 6 ستمبر 1991ء) "نظام جماعت تو ایک لاثانی نظام ہے اس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں ہے۔اس کو چھوٹی ادنی ادنیٰ باتوں سے ذلیل ورسوا نہ کریں۔اگر آپ نے اس نظام کی قدر نہ کی تو یہ سوچیں کہ یہ نظام پہلے بھی ایک دفعہ ناقدری کے نتیجے میں اٹھا لیا گیا تھا اب دوبارہ خدا نے آپ کو نعمت دی ہے اور الحمد للہ اس وعدہ کے ساتھ دی ہے کہ یہ نظام اب ہمیشہ رہے گا مگر ناقدری کرنے والوں کو سزا ضرور ملے گی اس لئے احتیاط سے کام لیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔آپ کو نظام جماعت کے تابع رہتے ہوئے امیر ہی کا سوال نہیں کسی بھی عہدیدار سے کوئی شکایت ہوتو وہ مجھے لکھ سکتا ہے۔خواہ وہ چھوٹا عہد یدار ہو خواہ وہ بڑا عہدیدار ہواور میں جماعت کو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ میرے بوجھ کی فکر نہ کریں۔اگر مجھ تک تکلیف دہ باتیں نہ پہنچیں تو مجھے تکلیف ہوگی لیکن ہوں کچی یہ شرط ہے اگر تقویٰ کے خلاف کوئی جھوٹی باتیں پہنچیں گی تو پھر لازماً ایسے شخص کو سزا دی جائے گی۔وہ دہرا جرم کرتا ہے۔خلیفہ وقت کو دھوکا دیتا ہے اور خدا کے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔کچی شکایت ہو۔بچے طریق پر پہنچے جس کے خلاف شکایت ہے اس کی معرفت بھجوائی جائے اس کی نقل مجھے بھجوادی جائے۔پھر دیکھیں لازماً کارروائی ہوگی لیکن کارروائی وہ ہوگی جو تقویٰ تقاضا کرتا ہے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے حق میں ضرور ہوگی حالانکہ بالکل غلط بات ہے۔بعض دفعہ ایسے ایسے ظالمانہ الزام عہدیداروں پر لگائے جاتے ہیں کہ پہلا خط پڑھ کر تو پاؤں تلے سے زمین نکل جاتی ہے کہ اچھا جماعت میں ایسے ایسے خوفناک عہدیدار بھی ہیں۔جب تحقیق کی جاتی ہے تو بات برعکس نکلتی ہے۔شکایت کنندہ ظالم نکلتا ہے۔اب میں نے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر فیصلے کرنے ہیں۔شکایت کنندہ کے دل کی حالت کو دیکھ کر تو فیصلے نہیں کرنے جب میں فیصلہ کرتا ہوں تو پھر بعض دفعہ وہ کہہ دیتا ہے۔بعض دفعہ دل میں رکھتا ہوگا کہ لو جی خلیفہ کے پاس بھی انصاف نہیں لیکن میں آپ کو ایک اور بات بتا تا ہوں کہ خلیفہ کوئی ڈکٹیرہ نہیں ہے کیونکہ خلیفہ کے اوپر سب سے زیادہ مقتدر اور طاقتور ہستی بیٹھی ہوئی ہے جو ہر وقت اس کی نگرانی کرتی ہے۔" (خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 730-731)