سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 209
209 کہاں یہ نظام اسلام جہاں عہدے سے خوف پیدا ہوتا ہے اور دل ڈرتے ہیں کہ میں ان ذمہ داریوں کو ادا کر سکوں گا کہ نہیں ، کہاں ان عہدوں کو ڈکٹیٹر شپ قرار دے دینا اور یہ سمجھنا کہ یہ بھی دنیا کے مناصب ہیں جن میں سے ایک منصب پر یہ پر ہ شخص فائز ہو گیا ہے جو مجھے پسند نہیں۔یہ باتیں تقویٰ کی روح سے خالی ہیں اور ان کو نظام جماعت میں اب کسی طرح بھی مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ایک دو ہوں اور اس وقت پکڑا جائے تو بہت بہتر ہے بجائے اس کے کہ یہ عام بیماریاں بن جائیں۔اس سلسلے میں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ خلیفہ وقت کبھی بھی کسی امیر کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت پر کسی قسم کا ظلم کرے۔اگر ایک فرد کی شکایت بھی پہنچے تو اس کی پوری تحقیق کی جاتی ہے اور امیر کو اس بات کے لئے جواب دہ بنایا جاتا ہے اور ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں جن میں ایک شخص نے جب مجھ تک شکایت پہنچائی کہ فلاں عہدیدار کی طرف سے خواہ وہ امیر تھا یا وکیل تھا یا ناظر تھا مجھے یہ تکلیف پہنچی ہے تو بلا تاخیر میں نے اپنی تحقیق کروائی ہے جو کالیہ آزاد تحقیق تھی اور بعض لوگوں کو شک ہوتا ہے کہ شاید اس تحقیق میں بھی کسی نے اثر ڈال دیا ہوگا ایسے لوگوں کو بعض دفعہ میں یہاں تک کہتا رہا ہوں کہ تم اپنے نمائندے مقرر کرو جو ساتھ بیٹھیں اور پھر اپنے نمائندوں سے سن کر مجھے بتاؤ کہ کیا ناجائز حرکت ہوئی ہے۔جس عہدیدار کے سر پر ایسا زبر دست نظام موجود ہو کہ وہ ذرا بھی راہ راست سے ہے تو اس کی نگرانی کی جائے ، اس کے متعلق تحقیقاتی کمیشن بیٹھیں اور اگر وہ غلطی کرتا ہے تو اس کی پاداش میں اس کو عہدے سے معطل یا معزول کرنا پڑے تو پھر ایسے شخص کوڈ کٹیر کہہ دینا بڑا ظلم ہے۔نظام جماعت میں تو کوئی ڈکٹیرا ہو ہی نہیں سکتا۔خدمت کرنے والے لوگ ہیں۔ایک بے چارہ سیکرٹری مال ہے سوائے اس کے اس کو مشغلہ ہی کوئی نہیں کہ وہ خدا کی خاطر پیسے اکٹھا کرتا پھرے۔دنیا جب اپنے پیسے اکٹھے کرنے میں مصروف ہوتی ہے وہ گھر گھر پھرتا ہے ، دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور رات کو اپنے حساب کتاب لے کر بیٹھ جاتا ہے۔بعض کے بیوی بچے مجھے شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے لئے بھی تو اس کا کچھ رہنے دیں۔یہ تو دن رات جماعت کے کاموں میں ہے۔بعض ایسے امراء ہیں جن کے بیوی بچے مجھے بتاتے ہیں کہ مدتیں ہو گئیں ہیں ہمارے بچوں نے ان کو نہیں دیکھا۔رات کو کام کر کے دیر سے آتے ہیں، صبح جلدی چلے جاتے ہیں اور سوائے نظام جماعت کے ان کا ہے ہی کچھ نہیں۔ہمارے تو کسی کام کے نہیں رہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ وہ ان کے اتنے کام کے ہیں کہ ان کو اندازہ ہی نہیں۔ان کی برکتیں وہ نسل ہی نہیں بلکہ نسلاً بعد نسل ان کی اولا د پاتی رہے گی اور آسمان سے یہ برکتیں بارش کی طرح ان پر نازل ہوں گی ایسے وفاداروں کو خد اکبھی تنہا نہیں چھوڑا کرتا کبھی بے جزا کے نہیں چھوڑ ا کرتا۔" (خطبات طاہر جلد 10 صفحہ 727-729)