سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 204 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 204

204 طرح دی کہ ہم دونوں اس طرح اکٹھے ہیں جس طرح اُنگلیاں جڑی ہوئی ہیں تو یہ مطلب تو نہیں تھا کہ بیچ میں زمانہ کوئی نہیں آتا۔مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ اس وقت تک ممتد ہوگا اور بیچ میں کوئی روک ایسی نہیں جو اس زمانے کو منقطع کر سکے اور پہلے کو دوسرے سے کاٹ سکے تو جس قوم کے اتنے لمبے سفر ہیں وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکلیف محسوس کرنے لگے اور دل چھوڑنے لگے یہ بات تو کوئی آپ کو زیب نہیں دیتی۔بات یہ ہے کہ اس نئی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا اور ان کے ہاتھ میں اقتدار کی تلوار آئی تو کئی طرف سے خوف اور خطرہ کا اظہار کیا گیا لیکن اس حکومت کے سربراہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم شریف نواز لوگ ہیں ، ہم شرافت کو نواز نے والے ہیں اور شرفاء کو ہم سے ہر گز کوئی خطرہ لاحق نہیں۔غالبا ان ہی اعلانات کے اثر میں ایک شریف النفس ڈپٹی کمشنر نے وہ قدم اٹھایا جو اس نے اٹھایا لیکن دوسری طرف احمدیوں کے کانوں میں ایک اور آواز آرہی ہے اور وہ ملانوں کی آواز ہے۔وہ کہتے ہیں تم اس آواز سے دھوکہ نہ کھانا، اقتدار کسی کے قبضے میں ہو، ظلم اور تعدی کی تلوار ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہم جب چاہیں جس گردن پر چاہیں یہ تلوار اس پر گرا کر اس کو تن سے جدا کر سکتی ہے تو تم دیکھو کہ یہ تلوار ہمارے ہاتھوں میں آ گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں نے اس آواز کو سنا اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں پر کئی قسم کے اندیشے قبضہ کر گئے، کئی قسم کے توہمات میں وہ مبتلا ہو گئے اور اس وقت ایسی ہی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔میں ان کو اسی مضمون کی ایک اور بات یاد کرانا چاہتا ہوں جس میں جو کچھ بھی میں نصیحت کر سکتا تھا اس کا بہترین خلاصہ بیان ہو گیا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک غزوہ کے موقع پر اپنے غلاموں سے بچھڑ کرا کیلے ایک درخت کے سائے میں آرام فرمارہے تھے کہ آپ کی آنکھ ایک للکار کی آواز سے کھلی۔ایک دشمن مسلمانوں سے نظر بچا کر آپ تک پہنچا اور آپ ہی کی تلوار اٹھا کر اس نے آپ کے سر پر سونتی اور کہا کہ اے محمد ابتا اب تجھے میرے ہاتھوں سے اور میری اس تلوار سے کون بچا سکتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اسی طرح اطمینان سے لیٹے رہے اور فرمایا: میرا خدا۔(ترمذى كتاب صفة القيامه حدیث نمبر: 2441) کتنی عظیم بات ہے۔تمام دنیا میں قیامت تک مومنوں پر آنے والے ابتلاؤں کا ایک ہی جواب ہے جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اس وقت اس ظالم کو دیا اور ہمیشہ ہر مؤمن ہر ظالم کو یہی جواب دیتارہے گا اور اگر یہ جواب نہیں دے گا تو اس کے بچنے کی کوئی ضمانت دنیا میں نہیں ہے۔پس تم یہ نہ دیکھو کہ آج تلوار کس کے ہاتھ میں ہے تم یہ دیکھو کہ وہ ہاتھ کس خدا کے قبضے میں ہے۔وہ باز و کس قدرت کے تابع ہیں جنہوں نے آج تمہارے سر کے اوپر ایک تلوار سونتی ہوئی ہے۔یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تلوار پہلے گرے گی مگر ہمارا خدا جانتا ہے اور وہ گواہ ہے کہ تلوار گرانے والوں پر اس کے غضب کی بجلی پہلے نازل ہوگی اور وہ ہاتھ شل کر