سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 203

203 کے استعمال کی اجازت دے دی تو اس لئے ہم فوری طور پر یہ تیاریاں کر رہے ہیں۔اس پر مجھے خیال آیا کہ اللہ اس ڈپٹی کمشنر پر رحم کرے، شریف بھی ہے اور سادہ بھی ہے۔نہیں جانتا کہ کن حالات میں یہ اجازت دے رہا ہے مگر بہر حال یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ شریف بھی ہے اور بہادر بھی ہے اور خدا کرے یہی بات درست ہو۔بہر حال انہوں نے اجازت دیتے وقت اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ اب اگر کوئی تبدیلی ہو تو میں ذمہ دار نہیں ہوں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض سادگی نہیں تھی بلکہ جانتے تھے کہ اس حکم کو تبدیل کروایا جاسکتا ہے۔چنا نچہ علماء فوری طور پر سیکرٹری وزارت مذہبی امور مرکزیہ سے ملے اور اس نے ان کو تعجب سے کہا کہ ہیں؟ ایک ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو یہ جرأت کہ احمدیوں کو اپنے اجتماع کے لئے لاؤڈ سپیکر کی اجازت دے دے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ، آپ بھول جائیں اس بات کو ، یہ ناممکن ہے۔چنانچہ دو دن بعد ہی جماعت کو تحریری حکم مل گیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب معذرت کے ساتھ اطلاع کرتے ہیں کہ ان کو اپنا پہلا اجازت نامہ منسوخ کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں پہلے لجنہ کا اجتماع ، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ اجتماع منعقد نہ کیا جائے اور پھر یہ فیصلہ کیا کہ بغیر لاؤڈ سپیکر کے ہی خدام الاحمدیہ کا اجتماع منعقد کیا جائے۔مگر آج ہی Fax ملی ہے کہ دوسرا حکم نامہ یہ ملا ہے کہ صرف لاؤڈ سپیکر کی اجازت ہی منسوخ نہیں کی جاتی بلکہ اجتماع منعقد کرنے کی اجازت بھی منسوخ کی جاتی ہے۔اس وجہ سے ربوہ میں بہت ہی بے چینی ہے، تکلیف ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے Fax کے انداز سے ہی کہ احمدی نوجوان جو مقامی ہیں یا باہر سے آئے ہیں، اس وقت بہت کرب کی حالت میں ہیں۔ان کو میں سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے لمبے سفر ہیں۔یہ اس قسم کے جو واقعات احمدیت کی تاریخ میں ہورہے ہیں یہ بعض منازل سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ہمارا قیام ان منازل پر نہیں ہے۔جو قافلے لمبے سفر پر روانہ ہوتے ہیں انہیں رستے میں مختلف قسم کے ڈاکوؤں ، چوروں ، اُچکوں، بھیڑیوں اور دیگر مخلوقات سے خطرات پہنچتے رہتے ہیں اور تکلیف پہنچتی رہتی ہے لیکن قافلوں کے قدم تو نہیں رُک جایا کرتے۔ان کے گزرتے ہوئے قدموں کی گردان چہروں پر پڑ جاتی ہے جو ان کے خلاف غوغا آرائی کرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور کچھ کاٹنے کی بھی کوشش کرتے ہیں اور تاریخ کی اس گرد میں ڈوب کر وہ ہمیشہ کے لئے نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ہاں ان مدفون جگہوں کے نشانات باقی رہ جاتے ہیں تو آپ تو لمبے سفر والی قوم ہیں۔ایسے لمبے سفر والی قوم ہیں جن کی آخری منزل قیامت سے ملی ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جب یہ فرمایا کہ مسیح اور قیامت آپس میں ملے ہوئے ہیں تو بعض علماء نے یہ سمجھا کہ اس کا مطلب ہے کہ مسیح کے آتے ہی قیامت آجائے گی۔بڑی ہی جہالت والی بات ہے۔مراد یہ تھی کہ مسیح کا زمانہ قیامت تک ممتد ہوگا۔بیچ میں اور کوئی زمانہ نہیں آئے گا۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی مثال بھی قیامت کے ساتھ اسی طرح دی اور اپنی اور مسیح کی مثال بھی اسی