سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 201
01 201 موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہا ما فرمايا: وَلَا تَسْتَمْ عَن النَّاس۔(تذکرہ: 197) یہاں تَسْتَم کا جو مضمون ہے یہ تنگی کا مضمون ہے۔تکلیف تو تجھے لوگوں کے کثرت سے آنے کے نتیجے میں پہنچے گی۔بے وقت تجھ سے مطالبات کرنے کے نتیجے میں لیکن دل میں تنگی نہ پیدا کرنا۔ہاں تکلیف کے نتیجے میں جو دوسرے لوازمات ہیں ان سے تو انسان کو مفر نہیں ہے۔ان میں دعا کی طرف متوجہ ہونا قربانی کی روح اختیار کرنا، زیادہ انکسار اختیار کرنا اور بہت سی خوبیاں ہیں جو خدا کی خاطر تکلیف اٹھانے کے نتیجے میں خود بخود پیدا ہوتی ہیں۔تو اگر تنگی نہ ہو تو وہ خوبیاں پیدا ہوں گی اگر تنگی ہوگی تو وہ خوبیاں ضائع ہو جائیں گی۔درخت کی مثال پس جب میں تنگی کہتا ہوں تو اس وسیع مضمون کو پیش نظر رکھ کر یہ الفاظ استعمال کر رہا ہوں کہ امراء کو اور عہدیداران کو چاہئے کہ ماتحتوں میں جب اس قسم کی خامیاں دیکھیں تو تنگی محسوس کرنے کی بجائے ان کے لئے درد محسوس کریں اور ان کو نصیحت کریں اور ان کو اس طرح پرورش دیں کہ گویا ان کے اپنے وجود کی بناءان پر ہے۔اس پہلو سے عہد یدار اور امیر درخت کا وہ حصہ بن جاتا ہے جو باہر نکلا ہوا ہے جس کی شاخیں آسمان پر ہیں اور یہ تمام عہدیداران اور کارکن اس کی جڑیں بن جاتے ہیں۔پس ایک اور منظر ہمارے سامنے ابھرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر عہدیدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس کے ماحصل کی بلندی اور جو کچھ وہ خدا کی نظر میں حاصل کرتا ہے اس کی رفعت اس بات پر منحصر ہے یعنی اس بات پر بھی بہت حد تک منحصر ہے کہ ان کے ماتحتوں کا تقویٰ کیسا ہے۔اگر وہ متقی ہوں گے اگر وہ پیوستہ ہوں گے اور گہرے ہوں گے اور ثابت کہلا سکتے ہوں گے تو ایسے امیر کا درخت بہت رفعتیں اختیار کرے گا اور اس کے کاموں کو بہترین پھل لگیں گے۔پس اس نئی تعریف کی رو سے ، اس نئے زاویہ کی رو سے پھلوں کی تعریف بدل جاتی ہے۔یہاں پھلوں سے مراد ہے جماعت کی اجتماعی کوششوں کا پھل جتنا زیادہ جڑیں اچھی ہوں گی اور ان کے تقویٰ پر امیر کی یا دیگر عہدیداران کی نظر ہوگی اسی حد تک ان لوگوں کی اجتماعی کوششیں پھل لائیں گی اور اس کے نتیجے میں امیر چونکہ ان کا نمائندہ ہے اور ان کا ایک Symbol بن جاتا ہے اس لئے اس کی رفعتیں یعنی امیر کی سر بلندی اور اس کی ترقی در اصل ساری جماعت کی سر بلندی اور ساری جماعت کی ترقی ہے۔تو اس پہلو سے گہری نظر رکھتے ہوئے اپنے ماحول کی نگرانی کرنی چاہئے۔کمزوریوں پر بھی نگاہ رکھنی چاہئے۔تقویٰ سے وابستہ ان فتنوں پر بھی نگاہ رکھنی چاہئے جن میں سے بعض کی مثال میں نے دی ہے لیکن اور بھی بہت سے فتنے ہیں جو نیکی کا روپ دھار کر جماعتوں کو شیطانی وساوس میں بھی مبتلا کرتے ہیں اور شیطانی تحریکات کو پھیلانے میں مدد دیتے ہیں ان سب پر نگاہ رکھتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے اور دعا کرتے ہوئے اگر تمام جماعتی عہدیداران اپنے کام کے معیار کو بڑھانے کی کوشش کریں گے تو میں ان کو یقین دلاتا