سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 173

173 یہی معقول اسلام ہے اس کے سوا اسلام کی کوئی صورت نہیں ہے۔تو اتنے عظیم الشان تغیرات خدا تعالیٰ نے احمدیت کے ذریعے اسلام کے نفوذ کے پیدا فرمائے ہیں کہ اگر ہم اس پر عملاً خدا تعالیٰ کا شکر ادا نہ کریں تو بڑی سخت بدنصیبی ہوگی۔جرمنی میں کچھ نوجوان اور کچھ انصار خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور بعض لجنہ اماءاللہ کی مبرات بھی اس بارہ میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ان سب کی کوششوں کے نتائج جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت ہی امید افزا ہیں۔" خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 327-328) جماعتی ادارے اور تنظیمیں جھوٹ کو ختم کرنے میں اپنی کوششیں تیز کر دیں (خطبہ جمعہ 7 ستمبر 1990ء) ایک لمبے عرصے سے میں جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ جھوٹ کے خلاف جہاد شروع کریں۔دنیا کا کوئی ملک بھی جھوٹ کی عادت کے ساتھ نہ اپنا دفاع کر سکتا ہے نہ کسی پہلو سے بھی دُنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور کوئی قوم دُنیا میں ترقی نہیں کر سکتی اگر اس کے اندر جھوٹ کی بیماری موجود ہو اور جہاں تک مذہبی جماعتوں کا تعلق ہے مذہبی جماعتوں کے لئے تو جھوٹ ایک زہر قاتل کا حکم رکھتا ہے اور ایسی جماعتیں جو جھوٹ میں مبتلا ہوں اور مذہبی جماعتیں ہوں وہ خود بھی ڈوبتی ہیں اور دوسروں کو بھی لے ڈوبتی ہیں کیونکہ اُن پر انحصار کیا جاتا ہے۔ان کو خدا تعالیٰ نے راہنمائی کے لئے پیدا کیا ہوتا ہے اس لئے اگر وہ خود جھوٹ کی بیماری میں مبتلا ہو جائیں تو راہنمائی کی تمام صلاحیتوں سے عاری ہو جاتی ہیں۔تمام خوبیوں سے رفتہ رفتہ تعلق توڑنا شروع کر دیتی ہیں جو اُن کو نبوت کے نتیجے میں عطا ہوتی ہیں اور تمام بدیوں سے اُن کے روابط بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پس اس پہلو سے باوجود اس کے کہ اس سے پہلے بھی میں نے بار ہا خطبات میں جھوٹ کے خلاف جہاد کرنے کی تلقین کی تھی مگر اس کی اہمیت کے پیش نظر ایک یا دو یا چار خطبوں کی بات نہیں میں سمجھتا ہوں کہ بار بار جماعت کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔جرمنی میں چونکہ پاکستان سے آنے والوں کی تعداد جماعتی لحاظ سے بہت زیادہ ہے اس لئے ایک بُرائی جو اُن کے آنے کے ساتھ جرمنی کے ملک میں سمگل ہوتی ہے وہ جھوٹ ہے۔اس میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ پاکستان کا معیار اپنے گرد و پیش کے معیار کی نسبت بہت بہتر ہے۔ہر اخلاقی نقطۂ نگاہ سے، ہر اخلاقی پہلو کے لحاظ سے جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے امتیازی طور پر بہتر ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہے اور یقیناً جھوٹ ہے کہ پاکستان میں بسنے