سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 172
172 کہ کچھ لوگ داخل ہوئے۔رپورٹوں میں ذکر آ گیا۔نعرہ ہائے تکبیر بلند ہو گئے اور پھر دوسال چار سال کے بعد نظر ڈال کے دیکھی تو پتا چلا کہ وہ سارے علاقے آہستہ آہستہ عدم تربیت کا شکار ہو کر واپس اپنے اپنے مقام پر چلے گئے ہیں۔یہ وہ خطرات ہیں جن کے پیش نظر قرآن کریم نے حیرت انگیز طور پر ایسی خوبصورت نصیحت ہمارے سامنے رکھی ہے کہ مضمون کے ہر پہلو پر نظر ڈالتے ہوئے نہایت ہی عمدہ الفاظ میں کامل احتیاطوں کے ساتھ ایک ایسا مضمون ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے کہ جس کے اندر ہماری ساری تربیتی ضرورتیں پوری ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ان نصیحتوں پر عمل کرے گی اور بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ استحکام کا پروگرام بھی جاری ہو جائے گا۔" خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 262-266) دعوت الی اللہ جرمنی میں انصار کی کوششوں سے نتائج حوصلہ افزاء ہیں خطبہ جمعہ 15 جون 1990) اس دفعہ جرمنی کے سالانہ جلسے میں شرکت کی جو توفیق ملی تو جہاں جماعت کی ترقی سے متعلق بہت سی خوشکن باتیں دیکھنے میں آئیں وہاں سب سے بڑی خوشی کی بات یہ معلوم ہوئی کہ جن احمد یوں نے بھی مشرقی یورپ سے آکر مغربی جرمنی میں بسنے والوں سے رابطے کئے ہیں یا روسیوں سے رابطے کئے ہیں ان کے رابطوں کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت جلدی ان لوگوں میں اسلام میں دلچسپی پیدا ہوئی اور اگر چہ وہ سارے دوست تو جلسے پر آکر ملاقات نہیں کر سکے لیکن جتنوں نے بھی کی ان کو دیکھ کر دل خوشی اور اطمینان سے بھر گیا کہ بہت تیزی کے ساتھ ان میں احمدیت میں دلچسپی پیدا ہور ہی تھی اور جہاں تک جماعت احمدیہ کے دیگر فرقوں سے اختلافی عقائد کا تعلق ہے ان لوگوں کے لئے جماعت احمدیہ کوحق پر سمجھناز را بھی مشکل نہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اشتراکیت نے ایک لمبے عرصے سے ان کے دلوں کی پٹی صاف کی ہوئی ہے اور اگر چہ وہ خدا سے بھی دور چلے گئے مگر ساتھ ہی لغو اور کہانیوں والے عقائد سے بھی دور چلے گئے اور اب انہیں صرف وہی مذہب مطمئن کر سکتا ہے جو محض دل ہی کو مطمئن نہ کرے بلکہ دماغ کو مطمئن کرے اور جب تک ان کا دماغ مطمئن نہ ہو ان کا دل مطمئن نہیں ہو سکتا۔اس لئے جب بھی ان کو سمجھانے کی خاطر کہ جو اسلام تمہیں پیش کیا جارہا ہے یہ تنہا تصور نہیں ہے اور بھی اسلام کے تصورات ہیں اور ہمارے مخالفین ہمیں اس اس وجہ سے یہ یہ سمجھتے ہیں اور جو اختلافی عقائد ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔جب بھی یہ بات ان سے کی گئی بے ساختہ انہوں نے کہا کہ اس میں تو کسی دلیل کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ہم بغیر تر ڈو کے آپ کی بات سنتے سنتے یہی سمجھ رہے تھے کہ