سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 124 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 124

124 ہمارا سفر اُن سڑکوں پر ہوا جن سڑکوں پر کسی زمانے میں انہوں نے بچے کے طور پر اپنے والد کو چلتے دیکھا تھا اور نئے احمدیوں کے ساتھ جو قافلہ در قافلہ قادیان کو جایا کرتے تھے۔عجیب روح پر ور وہ نظارہ تھا ہما را غالبا تانگہ تھا یا موٹر تھی جو بھی تھا جب اُن سڑکوں سے گزر رہا تھا تو ایک ایک یا داُن کے ذہن میں تازہ ہوتی چلی جارہی تھی۔وہ تو بتایا کرتے تھے کہ اگر چہ استطاعت تو تھی لیکن ہمارے ابا جان مرحوم اس بات کی زیادہ لذت محسوس کیا کرتے تھے کہ پیدل قادیان جائیں۔چنانچہ گاؤں گاؤں سے چھوٹے چھوٹے قافلے اُس قافلے کے ساتھ ملتے چلے جاتے تھے اور جلوس بنتا چلا جاتا تھا اور کئی لوگ ساتھ پنجابی کے گیت گاتے ہوئے ،صدا ئیں الاپتے ہوئے اُس قافلے کی رونق بڑھا دیا کرتے تھے اور نئی روحانی لذتیں اس کو عطا کیا کرتے تھے۔کہتے ہیں میں بھی کئی دفعہ انگلی پکڑ کے ساتھ اس طرح چل رہا ہوتا تھا میرے باقی بھائی بھی۔جتنا مزہ اُس زمانے میں اُن جلسوں کا اور قادیان اس طرح پیدل جلوس کی صورت میں جانے کا آیا ویسا اُن کو پھر ساری عمر کبھی مزہ نہیں آیا۔مزے تو آئے کئی کئی رنگ کے مزے آئے لیکن وہ بات اپنے رنگ میں ایک الگ بات تھی۔تو اُن بزرگوں کی باتیں جس طرح انہوں نے پیار سے کیس اس سے میرا دل بھی بے ساختہ دعاؤں سے بھر گیا اور میں نے سوچا کہ کاش سارے خاندان دنیا کے اسی طرح اپنے بزرگوں کو یا درکھیں اور اپنے بزرگوں کے تذکرے اپنے خاندان میں اپنے بچوں سے کیا کریں۔بعض اُن میں سے ایسے بھی ہوں گے جن کو یہ استطاعت ہوگی کہ وہ ان واقعات کو چھپوا دیں کتابی صورت میں لیکن ان کو میں ایک بات کی تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ بسا اوقات ایسے واقعات اکٹھے کرنے والے احتیاط سے کام نہیں لیتے۔بعض ایسی روایات بیان کر دیتے ہیں اپنی یادداشت کی غلطی کی وجہ سے جو بعض دوسری روایات سے ٹکرا جاتی ہیں۔بعض ایسی باتیں بیان کر دیتے ہیں جو کم عمری کی وجہ سے نا کبھی کے نتیجے میں وہ صحیح پہچان نہیں سکے۔واقعہ کسی اور رنگ میں ہوا بات کسی اور رنگ میں کی گئی اور اس بچے نے کچھ اور سمجھ لیا اور وہی بیان کر دیا۔تو یقیناً ایسے راویوں کو جھوٹا تو نہیں کہا جاسکتا لیکن غلطی انسان سے ہوتی ہے اور یہ روایتیں ایسی قیمتی اور مقدس ہیں اور جماعت کی ایسی امانت ہے کہ ان میں ہم چھوٹی اور ادنی غلطیاں بھی پسند نہیں کر سکتے اس لئے اگر کسی نے ان بزرگوں کے حالات اس نیت سے چھپوانے ہوں کہ باقی بھی استفادہ کریں تو ان کا اخلاقی اور جماعتی فرض ہے کہ وہ نظام جماعت سے پہلے اس کی اجازت لیں اور علماء ان کتب کو پڑھ کر اچھی طرح اس بات کا جائزہ لے لیں کہ کوئی ایسی بات نہیں جو کسی پہلو سے بھی جماعت کے لئے مضر ہو یا غلط دعوے کئے گئے ہوں یا ضرورت سے بڑھ کر فاخرانہ انداز اختیار کیا گیا ہو جبکہ بڑائیوں کے بیان میں عاجزانہ طریق اختیار کرنا چاہئے۔تو کئی قسم کے خطرات لاحق ہوتے ہیں ایسی باتوں میں اس لئے ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ یہ کام کریں اور میں امید رکھتا ہوں کہ اگر اس نسل میں ایسے ذکر زندہ ہو گئے اللہ تعالیٰ آپ کے ذکر کو بھی بلند کرے گا اور آپ یا درکھیں کہ اگلی نسلیں اسی طرح پیار اور محبت سے