سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 123
123 گاتے ہوئے ہم انشاء اللہ اگلی صدی میں داخل ہوں گے۔" ( خطبات طاہر جلد 8 صفحہ 167-168) ناظم صاحب انصار اللہ سیا لکوٹ کی ایک اچھی روایت پر احباب جماعت کو اپنے خاندانوں کی تاریخ لکھنے کی تحریک (خطبہ جمعہ 17 مارچ 1989ء) "میں نے اس سے پہلے اپنے افریقہ کے دورے میں ایک ہدایت دی تھی معلوم نہیں کس حد تک اُس پر عمل ہوا کہ یہ ایک ایسا اچھا خلق ہے اپنے بزرگوں کی نیکیوں کو یا درکھنا اور اُن کے احسانات کو یا درکھ کے اُن کے لئے دعائیں کرنا۔اس خلق کو ہمیں صرف اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ہر گھر میں رائج کرنا چاہئے۔چنانچہ غالباً کینیا کی بات ہے وہاں میں نے ایک کمیٹی بٹھائی کہ وہ سارے بزرگ جو پہلے کینیا پہنچے تھے جنہوں نے آکر یہاں قربانیاں دیں جماعت کی بنیادیں استوار کیں اُن کے حالات اکٹھے کرو ان حالات کو زندہ رکھنا تمہارا فرض ہے ورنہ تم زندہ نہیں رہ سکو گے اور مجھے تعجب ہوا اور بڑا دکھ امیز تعجب ہوا جب میں نے نوجوان نسلوں سے ان کے آبا ؤ اجداد کے متعلق پوچھا تو پتا لگا کہ اکثر کا کچھ پتا نہیں تھا۔نام جانتے تھے یہ پتا تھا کہ فلاں زمانے میں کوئی صاحب آئے تھے ، بعضوں کو یہ بھی پتا تھا کہ اُس کی قبر کہاں ہے ، وہ دادا جو کسی وقت آیا تھا یا پڑ دادا جو کسی وقت آیا تھا وہ کہاں چلا گیا بعضوں کو تو یہاں تک علم نہیں تھا چنانچہ میں نے اُن کو بتایا کہ یہ تو بہت عظیم الشان قربانیاں کرنے والے انسان تھے۔انہوں نے ہی وہ بنیادیں قائم کی ہیں جن پر آج تم قائم ہو کر اپنے آپ کو ایک بلند عمارت کے طور پر دیکھ رہے ہو۔چنانچہ اُس کمیٹی نے بڑا اچھا کام کیا اور ایک عرصے تک میرے ساتھ اُن کا رابطہ رہا اور بعض ایسے بزرگوں کے حالات اکٹھے کئے جو نظر سے اوجھل ہو چکے تھے۔اس لئے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور اُس تاریخ کو اُن کی بڑائی کے لئے شائع کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے آپ کو بڑائی عطا کرنے کے لئے۔اُن کی مثالوں کو زندہ کرنے کے لئے ، اُن کے واقعات کو محفوظ کریں اور پھر اپنی نسلوں کو بتایا کریں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے آباء واجداد تھے۔کن حالات میں کس طرح وہ لوگ خدمت دین کیا کرتے تھے، کس طرح وہ چلا کرتے تھے، کس طرح بیٹھا کرتے تھے، اوڑھنا بچھونا کیا تھا، اُن کے انداز کیا تھے؟ مجھے یاد ہے ایک دفعہ سیالکوٹ دورے پر گیا انصار اللہ کا صدر تھا اُن دنوں میرے ساتھ مکرم چوہدری محمد اسلم صاحب جو اُس زمانے میں انصار اللہ سیالکوٹ کے ناظم تھے وہ بھی ہمسفر تھے یہ مکرم چوہدری شاہ نواز صاحب کے بھائی تھے۔تو حسن اتفاق سے