سبیل الرّشاد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 507

سبیل الرّشاد (جلد سوم) — Page 108

108 کی محبت کے نتیجے میں انسانی روح بن ٹھن کر تیار ہوا کرتی ہے۔پس پیشتر اس سے کہ یہ بچے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت کے سپرد کئے جائیں گے۔ان ماں باپ کی بہت ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اس طرح تیار کریں کہ ان کے دل کی حسرتیں پوری ہوں۔جس شان کے ساتھ وہ خدا کے حضور ایک غیر معمولی تحفہ پیش کرنے کی تمنا رکھتے ہیں وہ تمنائیں پوری ہوں۔اس سے پہلے جو مختلف ادوار میں واقفین جماعت کے سامنے پیش کئے جاتے رہے اُن کی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ کئی قسم کے واقفین ہیں کچھ تو وہ تھے جنہوں نے بڑی عمروں میں ایسی حالت میں اپنے آپ کو خود پیش کیا کہ خوش قسمتی کے ساتھ اُن کی اپنی تربیت بہت اچھی ہوئی ہوئی تھی اور وقف نہ بھی کرتے تب بھی وقف کی روح رکھنے والے لوگ تھے۔صحابہ کی اولا دیا اول تابعین کی اولا دا چھے ماحول میں، اچھی پرورش اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اچھی عادات سے سجے ہوئے لوگ تھے۔وہ واقفین کا جو گروہ ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے زندگی کے ہر شعبے میں نہایت کامیاب رہا۔پھر ایک ایسا دور آیا جب بچے وقف کرنے شروع کئے گئے یعنی والدین نے اپنی اولا د کو خود وقف کرنا چاہا۔اس دور میں مختلف قسم کے واقفین ہمارے سامنے آئے ہیں۔بہت سے وہ ہیں جن کو والدین سمجھتے ہیں کہ جب ہم جماعت کے سپرد کریں گے تو وہ خود ہی تربیت کریں گے اور اس عرصے میں انہوں نے اُن پر نظر نہیں رکھی۔پس جب وہ جامعہ میں پیش ہوتے ہیں تو بالکل ایسے Raw میٹریل کے طور پر، ایسے خام مال کے طور پر پیش ہوتے ہیں جس کے اندر بعض مختلف قسم کی ملاوٹیں بھی شامل ہو چکی ہوتی ہیں اُن کو صاف کرنا ایک کار دارد ہوا کرتا ہے۔اُن کو وقف کی روح کے مطابق ڈھالنا بعض دفعہ مشکل بلکہ محال ہو جایا کرتا ہے اور بعض بد عادتیں وہ ساتھ لے کر آتے ہیں یعنی بعض باتیں جماعت ویسے سوچ بھی نہیں سکتی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بعض لڑکوں کو جامعہ میں چوری کے نتیجے میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔کسی کو جھوٹ کے نتیجے میں وقف سے خارج کیا گیا ہے۔اب یہ باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اچھے نیک، صالح احمدی میں پائی جائیں کجا یہ کہ وہ واقفین زندگی میں پائی جائیں لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ والدین نے پیش تو کر دیا لیکن تربیت کی طرف توجہ نہ کی یا اتنی دیر کے بعد اُن کو وقف کا خیال آیا کہ اُس وقت تربیت کا وقت باقی نہیں رہا تھا۔بعض والدین سے تو یہ بھی پتا چلا کہ انہوں نے اس وجہ سے بچہ وقف کیا تھا کہ عادتیں بہت بگڑی ہوئی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اُس طرح تو ٹھیک نہیں ہوتا وقف کر دو تو آپ ہی جا کر جماعت سنبھال لے گی اور ٹھیک کرے گی۔جس طرح پرانے زمانے میں بعض دفعہ بگڑے ہوئے بچوں کو کہتے تھے اچھا اس کو تھانیدار بنوا دیں گے تو یہ جماعت میں چونکہ نیکی کی روح ہے۔تھانیداری کا تو خیال نہیں آتا اُن کو لیکن واقف بنانے کا خیال آجاتا ہے حالانکہ تھانیداری سے تو ایسے بچوں کا تعلق ہو سکتا ہے وقف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔بہت بعید کی بات سوچتے ہیں یہ لوگ۔وہ تو لطیفہ ہے تھانیداری والا لیکن یہ تو دردناک واقعہ ہے۔وہ تو ایک ہنسنے