سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 68

سبیل الرشاد جلد دوم 68 اور سرور کو محسوس کیا اور دعا کرنے کی عادت ان میں پیدا ہوئی اور انہوں نے اس چیز کو پہچانا کہ ہمارا رب بڑا ہی پیار کرنے والا ہے۔اگر ہم عاجزی کے ساتھ اس کے حضور جھکیں گے تو وہ ہماری باتوں کوسنتا ہے اور ان کو قبول کرتا ہے یا جو باتیں ہمارے لئے مفید نہ ہوں اور وہ قبول نہ کرنا چاہے اس سلسلہ میں جب وہ رڈ کرتا ہے تو ساتھ ہی کسی اور پہلو سے ہمارے دلوں کے لئے تسکین کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔وقف عارضی کی طرف بھی مجلس انصار اللہ کو خاص توجہ دینی چاہئے۔انصار اللہ میں بھی جیسا کہ خدام میں پڑھے لکھے بھی ہیں، ان پڑھ بھی ہیں جو وفود گئے ہیں ان میں جو کامیاب ہوئے ہیں اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو خاص طور پر ان دنوں میں محسوس کیا ہے۔ان میں پڑھے لکھے بھی شامل تھے۔اور ان پڑھ بھی ساتھ تھے اور استثنائی طور پر بعض وفود نا کام بھی ہوئے ہیں، ناتجربہ کاری کی وجہ سے۔بعض دوستوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ ہم نے کس طرح کام کرنا ہے اور ان ناکامیوں میں پڑھے لکھے بھی شامل ہیں اور ان پڑھ بھی شامل ہیں۔اس واسطے یہ خیال کر لینا کہ جو دوست پڑھے لکھے نہیں وہ یہ کام نہیں کر سکتے۔یہ درست نہیں ہے۔کیونکہ بیسیوں سینکڑوں ان پڑھ احمدی دوست ایسے ہیں جو وقف عارضی کے پندرہ دن بڑی محبت اور اخلاص کے ساتھ دوسری جگہوں میں گزار چکے ہیں۔انہیں یہ معلوم ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے کس رنگ میں جماعت کی خدمت لی اور ان کے دل خدا کی حمد سے معمور ہیں۔تو بیداری پیدا کرنے اور بیداری قائم رکھنے کی جو ذمہ داری مجلس انصار اللہ پر ہے، اُس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ مجلس انصار اللہ کے اراکین زیادہ سے زیادہ وقف عارضی کے منصوبہ میں شامل ہوں اور کم از کم سال میں دو ہفتے تو خالصہ اللہ اور اس کے دین کے لئے وقف کریں۔اس کے علاوہ مجلس انصار اللہ پر یہ فرض بھی عائد کیا گیا تھا کہ وہ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت جماعتی کاموں کے لئے دیں اور اس کی طرف بھی آپ دوست اپنے اپنے مقامات پر توجہ دیں اور ایسا پروگرام بنائیں کہ ہر رکن مجلس انصار اللہ روزانہ کچھ وقت دین کی راہ میں خرچ کرے۔ایک دوسرے کو ملیں۔وعظ ونصیحت کریں۔قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کی طرف توجہ دیں تربیت اور اصلاح وارشاد کے بہت سے ایسے کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔انصار اللہ کو روزانہ کچھ کام دینا چاہئے۔جس طرح ہم روزانہ نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح بعض دوستوں کو اللہ تعالیٰ چندوں کے علاوہ روزانہ کچھ نہ کچھ خرچ کرنے کی توفیق دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بھی ہر ایک کو عادت ڈالنی چاہئے۔چاہے آپ ایک دھیلہ روزانہ دیں۔ایک دھیلہ روزانہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے نکالیں یعنی یہ نہیں کہ پہلی تاریخ کو جب تنخواہ ملی تو مہینہ کی ساری رقم ( جو خرچ کرنا تھی ) نکال لی یا مہینہ کے آخر پر دکانداروں نے اپنے