سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 60
60 سبیل الرشاد جلد دوم روحانی قلعے ساری دنیا میں بننے شروع ہوئے اور معروف دنیا کے چپہ چپہ پر اللہ تعالیٰ کا گھر جو تھا۔وہ بن گیا اور اس کے فیوض اور برکات سے اللہ تعالیٰ کے گھر سے اللہ یاد آیا۔جب اللہ یا د آیا۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد اور نصرت کے جلوے اپنی رحمت کے نشان انہیں دکھانے شروع کئے اور خدا تعالیٰ کی محبت ساری دنیا کی اقوام میں پیدا ہو گئی اور پھر اس محبت کو قائم رکھنے کی جو جد و جہد تھی وہ شروع ہوگئی۔تین صدیوں تک اسلام جو تھا۔وہ اپنے عروج پر رہا اور پھر اس کے بعد قائم رکھنے کی جدو جہد تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ تک رہی، لیکن کمزور ہوتی چلی گئی۔جیسا کہ پہلے بتایا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں چھوٹے چھوٹے چراغ اسلام کے ہمیں جلتے نظر آتے تھے۔اور کچھ آپ کی بعثت کے وقت کے قریب کے زمانہ میں بجھ گئے۔وہ اولیاء فوت ہو گئے اور کچھ نے ٹھو کر کھائی اور وہ وجود جو اسلام کی روشنی پھیلانے والے تھے۔اندھیرا پھیلانے کا موجب ہو گئے اور بہت تھے جن کی روشنیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چاند میں گم ہو گئیں اور آپ کے وجود کا وہ ایک حصہ بن گئے اور اس طرح ابدی حیات کو انہوں نے حاصل کر لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے وعدے دیئے ہیں غلبہ اسلام کے متعلق وہ تین صدیوں کے اندر اندر پورے ہو جائیں گے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ تین صدیوں کے اندر اندر ہی یہ تینوں زمانے ہیں۔بنیادوں کے رکھنے اور انہیں مضبوط کرنے کا زمانہ ، روحانی قلعوں کی تعمیر کا زمانہ اور روحانی قلعوں کی حفاظت کا زمانہ اپنے عروج اور اس کے بعد کا زمانہ جو ہے۔وہ تین صدیوں کے اندر اپنے کمال کو پہنچ جائے گا۔جو حفاظت کا زمانہ ہے۔وہ تو پھر آگے چلتا ہے۔قیامت تک جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ وعدے ہیں وہ چلے گا۔یہاں تک کہ انسان پھر اپنے رب کو بھول جائیں گے اور اس دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔یہ ایک مستقل مضمون ہے۔میں اس کی تفصیل میں تو ابھی نہیں جاتا۔بہر حال ان تین زمانوں کا ان تین صدیوں کے اندراندر ضروری نہیں کہ تین صدیاں ہوں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود وضاحت سے فرمایا ہے۔اس سے زیادہ زمانہ نہیں ہو گا۔ہوسکتا ہے کہ دوسوسال کے اندر، ہوسکتا ہے کہ تین سو سال کے اندر، ہوسکتا ہے کہ سوا دو سو سال، اڑھائی سوسال کے اندر بھی یہ تینوں زمانے آجائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جو بنیا دیں مضبوط کرنے کا زمانہ تھا۔وہ ختم ہو رہا ہے اور روحانی قلعوں کی تعمیر کے زمانہ میں ہم داخل ہورہے ہیں۔ان بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے