سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page viii of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page viii

vii پیش لفظ طبع اول خلافت ثالثہ کے بابرکت دور میں جہاں اللہ تعالیٰ کے بہت سے وعدے پورے ہوئے وہاں ہم نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور نشانات کو آسمانوں سے بارش کی طرح نازل ہوتے دیکھا۔حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی پیدائش کی خبر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ” إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامِ نَافِلَةٌ لَّكَ“ کے الفاظ میں دی۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہوکہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں۔“ ( تذکره صفحه ۵۱۹) حضرت مصلح موعود نے جہاں جماعت احمدیہ میں خلافت کے استحکام کی ایک طویل جدو جہد فرمائی اور کامیابی حاصل کی وہاں آپ نے آنے والے خلیفہ کو یہ بھی خوشخبری دے دی۔میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا۔۔۔۔اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکرلیں گی تو ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔“ (خلافت حقہ اسلامیہ صفحہ ۱۷) ۹ نومبر ۱۹۶۵ء کو جب وہ وجود مسعود خلافت پر متمکن ہوا تو دنیا نے اس کو ایک نئے روپ میں دیکھا۔آپ نے خلافت پر متمکن ہوتے ہی جماعت احمدیہ کو یہ خوشخبری سنائی۔میں جماعت احمدیہ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ آئندہ چھپیں تمہیں سال جماعت احمدیہ کے لئے نہایت اہم ہیں کیونکہ دنیا میں ایک روحانی انقلاب عظیم پیدا ہونے والا ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کون سی خوش بخت قو میں ہوں گی جو ساری کی ساری یا ان کی اکثریت احمدیت میں داخل ہوں گی اور وہ افریقہ میں ہوں گی یا جزائر میں یا دوسرے علاقوں میں لیکن میں پورے وثوق اور یقین کے ساتھ آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ وہ دن دور نہیں جب دنیا میں ایسے ممالک اور علاقے پائے جائیں گے جہاں کی اکثریت احمدیت کو قبول کرلے گی۔“ ( روزنامه الفضل ربوه ۹ جنوری ۱۹۶۶ء) ۱۹۷۴ ء کے پُر آشوب دور میں جب جماعت احمدیہ کے مخالفین کو پس پردہ حکومتوں کی حمایت حاصل تھی اور دنیوی آنکھ دیکھ رہی تھی کہ یہ جماعت اپنی زندگی کی آخری چکی کب لیتی ہے اور حاکم وقت جماعت احمدیہ کے ہاتھوں میں کشکول پکڑوانے کے دعوے کر رہے تھے۔اس ابتلاء اور آزمائش کے موقع پر آپ نے غم زدہ اور زخم خوردہ احمد یوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔