سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vii of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page vii

vi انصار ہر ایک کو معرفت کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں انصار اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنائیں اور ہر ایک کو معرفت کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ٹھیک ہے ہر ایک نے اپنی استعداد اور اپنی قوتوں کے مطابق اس معرفت کو حاصل کرنا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ہر بچہ جو اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا وہ مظلوم ہے اور ہمارے اوپر اس کی ذمہ داری آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو ادا کریں۔اللہ تعالی ہماری نوجوان نسل کو اور نئے آنے والوں کو یہ توفیق دے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں جس طرح ایک اُبلنے والی دیگ جس کے اہلنے میں کچھ وقت لگتا ہے ایک دیگ جو اہل رہی ہے وہ بعض دفعہ آدھے گھنٹہ میں یا گھنٹے میں اس درجہ حرارت کو پہنچتی ہے لیکن اُس اُبلتی ہوئی دیگ میں دو قطرے ٹھنڈے پانی کے ڈالو تو ایک سیکنڈ میں اُبلنے لگتی ہے۔اسی طرح ہمارے اندر بھی خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار کی اتنی گرمی ہونی چاہئے کہ اس کے مقابلے میں اُبلتے ہوئے پانی کی کوئی گرمی نہ ہو۔باہر سے آنے والے ہمارے اندر شامل ہوتے ہیں یا ہماری جو نوجوان نسل ہے جب وہ بڑی ہو کر اپنی پہنی اور روحانی بلوغت کو پہنچتی ہے تو جس طرح ایک سیکنڈ یا اس کے ہزارویں حصے میں ٹھنڈے پانی کا قطرہ ابلنے لگتا ہے (جو اُبلتی دیگ میں ڈالا جائے ) اور حرارت کے بلند درجے کو پہنچ جاتا ہے اسی طرح یہ بھی خدا کی محبت اور پیار میں انتہائی طور پر گداز ہو جائیں۔( خطبات ناصر جلد ششم صفحہ 25-26)