سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 44
سبیل الرشاد جلد دوم 44 ڈگری کا لفظ ذکر سے بھی زیادہ اچھے معنوں میں ہے۔کسی چیز کو زیادہ نمایاں کرنے کے لئے اور اس کی برکت کو زیادہ ظاہر کرنے کے لئے بولا جاتا ہے۔تو قرآن کریم نے یہ دعوی کیا اِنَّ فِى هذا لذكری کہ قرآن کریم میں ذکر کے سامان موجود ہیں۔نصیحت کے بھی اور شرف اور بزرگی کے بھی۔اس لئے جو شخص قرآن کریم سے یہ چیز حاصل کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے۔سوال پیدا ہوتا تھا کہ اے خدا! ہم حاصل تو کر سکتے ہیں لیکن تیرے عاجز بندے ہیں۔تو خود ہی بتا کہ ہم کیسے اس ڈگری کو ، اس نصیحت کو عزت کے سامان کو حاصل کر سکتے ہیں۔تو ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے تین باتیں بیان کیں۔جس میں وہ تین باتیں نہ ہوں۔وہ قرآن کریم سے نہ نصیحت حاصل کر سکتا ہے، اور نہ قرآن کریم اس کی عزت اور اس کے شرف کو بڑھانے کا موجب ہوسکتا ہے۔پہلی بات یہ ہے کہ لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْب - ذكری تو ہے۔لیکن صرف اس شخص کے لئے جو فکر اور تد بر کرنے والا دل رکھتا ہو۔اب میں نے آپ کو بڑوں کو بھی اور چھوٹوں کو بھی بار بار جھنجھوڑا ہے۔اور اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہو۔اگر تمہارے دل میں یہ خواہش ہے کہ غلبہ اسلام کے دن جلد تر آجائیں تو قرآن کریم کی طرف توجہ کرو۔لیکن اس میں آپ سنتی دکھا رہے ہیں لیکن قرآن یہ کہتا ہے کہ اس سستی کے نتیجہ میں تمہیں وہ برکت نہیں مل سکتی جو قرآن دینا چاہتا ہے دنیا کو۔نہ تمہیں وہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔جو قرآن کے طفیل سے حاصل کر سکتے ہو۔تو پہلی چیز یہ بتائی لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ جس کا فکر ، غور اور تدبر کرنے والا دل ہے۔اس کے لئے یہ ذکر ی ہے۔لیکن چونکہ انسان انسان میں بڑا فرق ہے۔بعض کی قوتیں اور استعداد میں تھوڑی ہیں۔بعض کی بہت زیادہ ہیں۔بعض ہیں سیڑھی چڑھ سکتا ہے۔وسعت آسمانی کی طرف کوئی دوسو سیٹرھیاں چڑھ سکتا ہے، کوئی ہزار کوئی دس ہزار پھر ایک وہ بھی پیدا ہوا۔جو ساتوں آسمانوں کو پھلانگتا ہوا آگے نکل گیا ہے۔صلی اللہ علیہ وسلم تو اگر صرف فکر اور تدبر کرنے والا دل رکھتا ہے۔لیکن چونکہ ایسا نہیں تھا۔کسی نے اتنا اوپر اٹھنا تھا کسی نے اتنا کسی نے اتنا اپنے طور پر کسی اور کو احتیاج نہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرما یا وُ الْقُى السَّمْعَ جہاں تک تم پہنچ سکتے ہو۔تم پہنچو۔اس سے آگے کے لئے ان لوگوں کی تلاش کرو جو تم سے زیادہ بلند ہو چکے ہیں۔اور ان کی باتوں کو سنو کیونکہ وہ تمہارے معلم بنائے گئے ہیں۔القى السَّمعَ جو توجہ سے کان دھرتا ہے۔ایسے شخص کی طرف جس کا فکر اور تدبر اس سے زیادہ ہے۔اس سلسلہ میں بڑی مشکل پڑ جائے گی۔کیونکہ بیسیوں آدمی کھڑے ہو جائیں گے کہ ہم ہیں زیادہ عالم قرآن اور وہی جھگڑے شروع ہو جائیں گے جو