سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 513 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 513

43 رنگ مختلف ہے۔ویسے تو جھنڈوں کیلئے عام طور پر سبز رنگ ہوتا ہے مگر ہمارے اس رومال کا رنگ کالا اور سفید اس لئے ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو جھنڈے تھے وہ یا کالے رنگ کے تھے اور یا سفید رنگ کے تھے چنانچہ پہلی بار جب ہماری جماعت کا جھنڈا بنا تھا اس وقت حضرت مصلح موعود نے اس سلسلہ میں چھان بین کرنے کیلئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی تھی جس میں مجھ خاکسار کو بھی شامل کر دیا تھا۔چنانچہ اس پر ہم نے پوری چھان بین کی تو ہمیں یہی پتہ لگا تھا کہ ان دو رنگوں کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کا اور کوئی رنگ نہیں تھا۔اس واسطے ہم نے جماعت کے جھنڈا میں سیاہ اور سفید رنگوں کا ایک امتزاج پیدا کر دیا ہے اور یہی دو رنگ یعنی سیاہ اور سفید ہمارے اس رومال میں بھی آئے ہیں اور ایک دوسری شکل میں ناصرات اور لجنہ اماء اللہ کے رومال میں آئے ہیں اور تیسری شکل میں انشاء اللہ انصار اللہ کے رومالوں میں آئیں گے۔انصار اللہ کو چاہئے کہ وہ مجھ سے مشورہ کر کے اپنے رومال تیار کریں۔ان کے اجتماع میں ابھی کچھ وقت ہے اس وقت کچھ نہ کچھ تو ضرور تیار ہو جانے چاہئیں۔ان کیلئے میں رومالوں کی کوئی اور شکل تجویز کروں گا۔تاہم انصار اللہ کے چھلے کیلئے لا غَالِبَ إِلَّا اللہ کا نشان مقرر کیا گیا ہے۔چاہے وہ عام رکن ہو، چاہے وہ مجلس انصار اللہ کا کوئی عہدہ دار ہو سب کا یہی نشان ہوگا"۔(مشعل راه جلد دوم صفحه 345-346) جوانوں کے جوان یعنی انصار، ماہنامہ انصار اللہ میں دلچسپی لیں حضور نے 1972ء کے جلسہ سالانہ کے دوسرے روز مورخہ 27 دسمبر کے خطاب میں فرمایا۔" پھر ماہنامہ انصار اللہ ہے جس کا تعلق جماعت کے اس حصہ سے ہے جن کو میں بوڑھے کہنے کی بجائے ” جوانوں کے جوان“ کہا کرتا ہوں۔اس لئے جوانوں کے جوان اس میں دلچسپی لیں۔" خطابات ناصر جلد اول صفحہ 537)