سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 512
42 کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں قبول بھی فرمائے۔یعنی ہمیں مقبول ایثار کی مقبول قربانیوں کی توفیق عطا ہوتا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بنیں اور انسان کے ضمن میں دنیا کی بحیثیت مجموعی جو ذمہ داریاں ہمارے کندھوں پر ڈالی گئی ہیں ہم ان ذمہ داریوں کو الہی توفیق سے بہتر رنگ میں ادا کر سکیں" انصار اللہ کا رومال خطبات ناصر جلد چہارم صفحه 504-506) حضور نے 5 اکتوبر 1972ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع پر افتتاحی خطاب میں فرمایا۔قبل اس کے کہ میں اس وقت وہ باتیں کہنا شروع کروں جن کے کہنے کا ارادہ لے کر میں یہاں آیا ہوں، میں خدام کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے خادم کی علامت کے طور پر ایک رومال تجویز کیا ہے۔کیونکہ وقت کم تھا اس لئے یہ صرف پانچ سو کے قریب تیار ہو سکے ہیں جن میں سے نصف کے قریب تو نو جوان بچوں نے خرید لئے ہیں اور نصف ابھی پڑے ہوئے ہیں۔خدام کو چاہئے کہ وہ بھی خرید لیں کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا میں ہر خادم اسلام کے پاس یہ رومال ہونا چاہئے۔اس رومال میں ایک چھلا پڑتا ہے۔یہودی بڑی ہوشیار قوم ہے۔وہ دنیا میں ہر لحاظ سے اپنی بڑائی پھیلانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔اس سلسلہ میں ان کے بعض خاموش ذرائع بھی ہیں۔غرض ان کی دنیوی شہرت کا ایک ذریعہ چھلا بھی بنا اور انہوں نے گردن میں ڈالنے والے رومال کیلئے جو چھلا بنا رکھا ہے، اس پر سانپ کی شکل بنادی ہے اور اس طرح گویا انہوں نے ہر مسلمان کے گلے میں جو یہ رنگ استعمال کرے، اپنی یہ علامت ڈال دی ہے۔چنانچہ جس وقت مجھے اس رومال اور چھلے کا خیال آیا تو میں نے سوچا ہمیں اپنے لئے رنگ (چھلے ) خود تجویز کرنے چاہئیں اور اسی طرح سکارف ( رومال ) کا نمونہ بھی خود ہی بنانا چاہئے۔مجھے یاد آیا کہ پین میں الحمرا کی دیواروں پر مجھے چار فقرے نظر آئے تھے۔(1) لا غَالِبَ إِلَّا اللہ جو بڑی کثرت کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔(2) الْقُدْرَةُ لِلَّهِ (3) الحُكْمُ لِلَّهِ (4) الْعِزَّةُ للہ۔ان سے فائدہ اٹھا کر یہ تجویز کی ہے۔عام اطفال اور خدام یعنی ہر رکن کیلئے الْقُدْرَةُ لِلَّهِ کا رنگ یعنی چھلا ہے اور جو عہدہ دار ہیں ان کیلئے الْعِزَّةُ لِلہ کا۔اور یہی لجنہ اماءاللہ کا نشان ہے۔البتہ ان کے رومال کا