سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 506 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 506

36 مطیع گھوڑا بن سکتا ہے گھوڑے میں بڑی طاقت ہے اگر چاہے اور مطیع نہ ہو تو دس آدمیوں کو کھینچ کر لے جائے، لگام آپ جتنی مرضی کھینچتے رہیں وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا اسی طرح نفس امارہ اور اس کی بدیاں بڑی زور دار ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت کی اور عاجزانہ دعاؤں کی لگام اس کے منہ میں پڑنی چاہئے اور اس کو ایک ہلکا سا اشارہ کافی ہونا چاہئے گھوڑے کو جو سکھایا جاتا ہے صرف اشارہ سکھایا جاتا ہے۔اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں، یہ بتایا جاتا ہے کہ میں تم سے زیادہ ہوشیار ہوں تمہیں میرے اشارے پر چلنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گھوڑے کو ہم نے تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور یہی گھوڑے کو سمجھایا جاتا ہے ویسے لگام کا اشارہ ہوتا ہے لیکن اگر اچھا گھوڑا ہو تو سوار اگر بغیر لگام کے اشارے کے ٹھہرانا چاہے تو وہ کھڑا ہو جاتا ہے پس نفس کو بھی اسی طرح مطیع ہونا چاہئے یہ نہیں کہ جو مرضی کرے آپ کا شعور یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اچھے کھانے نہ کھاؤ اس وقت مجھے تمہارے پیسوں کی اسلئے ضرورت ہے۔تم اپنے جسموں کو کھانے سے اسلئے محروم کرو کہ کسی اور روح کو تمہارے پیسے کی ضرورت ہے تو بہر حال یہ روح جسم پر مقدم ہے پس اپنے جسم کی آسائش اور اچھے کھانے کی لذت کی قربانی دو تا کہ کوئی اور روح جہنم سے بچائی جاسکے اور یہ تربیت نفس کو آپ نے دینی ہے وہ جو باہر سے آئیں گے وہ تو اور بھی فکر مند کر دیں گے کہ پہلوں کی جو تربیت ہے اس میں رخنہ نہ پڑ جائے۔ان کو آتے ہی سنبھالنا چاہئے اور پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ صحیح راستہ پر ان کولگادینا چاہئے یہ ذمہ داری انصار اللہ پر ہے" خطبات ناصر جلد سوم صفحہ 387-389) ہمدردی مخلوق انصار اللہ کا بھی کام ہے حضور نے 16 اکتوبر 1970ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے اختتامی خطاب میں فرمایا۔" پھر ہمدردی مخلوق ہے۔میں نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ہمارے سب چھوٹوں اور بڑوں کا کام ہی ہمدردی مخلوق ہے۔انصار کا بھی یہ کام ہے اور آپ کا بھی یہ کام ہے۔(دراصل انصار بھی خادم ہیں صرف نام بدلا ہے )۔جماعت احمدیہ پیدا ہی دنیا کی خدمت کے لئے ہوئی ہے ہم نے دنیا سے بہر حال ہمدردی کا سلوک روارکھنا ہے۔مجھے یاد آ گیا میں افریقہ میں گیا تو جب میں یہ بات کہتا تھا کہ اسلام ہمدردی مخلوق کی تلقین کرتا ہے تو وہ حیران رہ جاتے تھے اور اس کا بڑا اثر لیتے تھے اور بڑے خوش ہوتے تھے۔میں ان سے کہتا تھا کہ میں آپ کے لئے محبت کا پیغام لے کر آیا ہوں ، مساوات کا پیغام لے کر آیا ہوں۔ایک