سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 31

سبیل الرشاد جلد دوم استغفار کے ذریعہ سے مدامی طور پر رکھتے ہیں۔بات یہ ہے کہ اصل انوار تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔اور نبی ہو یا کوئی اور سب خدا سے انہیں حاصل کرتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ۔” میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔نہ علمی ، نہ خاندانی ، نہ مالی۔جب خدا تعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جوان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے۔وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ ، ایمان ، عبادت ، طہارت سب کچھ آسمان سے آتا ہے۔اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے ، وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دُور کر دے۔پس کچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشئی محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے۔اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے ایک قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت اور کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے۔بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔۔میں یہ سب باتیں بار بار اس لئے کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس جماعت کو بنانا چاہا ہے تو اس سے یہی غرض رکھی ہے کہ وہ حقیقی معرفت جو دنیا میں گم ہو چکی ہے اور وہ حقیقی تقویٰ و طہارت جو اس زمانہ میں پائی نہیں جاتی اُسے دوبارہ قائم کرے۔“ 31 ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد چہارم صفحه ۹۶-۹۷ ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد چہارم صفحه ۲۱۳ - ۲۱۴