سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 479 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 479

ضرورت ہو وہاں قرآن کریم کا ترجمہ سکھانے کیلئے دیں تا یہ اہم کام جلدی اور خوش اسلوبی سے کیا جاسکے۔میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نعمت جو قرآن کریم کی شکل میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل دوبارہ ملی ہے اگر وہ ورثہ کے طور پر آپ کے بچوں کو نہیں ملتی تو آپ اپنی زندگی کے دن پورے کر کے خوشی سے اس دنیا سے رخصت نہیں ہوں گے۔جب آپ کو یہ نظر آ رہا ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا خزانہ یعنی قرآن کریم جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل حاصل کیا تھا اس سے آپ کے بچے کلیہ نا واقف ہیں تو موت کے وقت آپ کو کیا خوشی حاصل ہو گی۔آپ ان جذبات کے ساتھ اس دنیا کو چھوڑ رہے ہوں گے کہ کاش آپ کی آئندہ نسل بھی ان نعمتوں کی وارث ہوتی جن کو آپ نے اپنی زندگی میں حاصل کیا تھا پس تم اپنی جانوں پر رحم کرو۔اپنی نسلوں پر رحم کرو۔اپنے خاندانوں پر رحم کرو اور پھر ان گھروں پر رحم کرو جن میں تم سکونت پذیر ہو کیونکہ قرآن کریم کے بغیر آپ کے گھر بھی بے برکت رہیں گے۔ہر احمدی کا گھر ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں رہنے والا ہر فرد جو اس عمر کا ہے کہ وہ قرآن کریم پڑھ سکتا ہو صبح کے وقت اس کی تلاوت کر رہا ہو۔لیکن اگر مثال کے طور پر آپ کے گھر میں دس افراد ہیں اور ان میں سے صرف ایک فرد قرآن کریم پڑھنا جانتا ہے باقی نو افراد قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتے تو گویا آپ نے اس نعمت کا 1/10 حصہ حاصل کیا لیکن دنیوی لحاظ سے آپ ساری کی ساری چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہیں" خطبات ناصر جلد اول صفحہ 124-127) پھر اسی سلسلہ میں مورخہ 8 اپریل 1966ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا۔اس منصوبہ کے لئے میں نے لاہور کی جماعت اور سیالکوٹ کا ضلع مجلس خدام الاحمدیہ کے سپر د کیا تھا اور کراچی کی جماعت اور جھنگ کا ضلع مجلس انصار اللہ کے سپر د کیا تھا اور باقی تمام جماعت کا کام نظارت اصلاح وارشاد نے کرنا تھا۔اس سلسلہ میں بھی کچھ کام ہوا ہے لیکن میرے نزدیک ابھی وہ کام تسلی بخش نہیں۔کوئی جماعت ایسی نہیں رہنی چاہئے کہ جہاں قرآن کریم پڑھانے کا انتظام نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس سلسلہ میں میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ بعض جگہ سے یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ گو ہماری یہ جماعت خدام الاحمدیہ کے سپرد نہ کی گئی تھی لیکن انہوں نے جماعتی انتظام سے علیحدہ قرآن کریم سکھانے کا اپنے طور پر انتظام کر دیا ہے اور وہ جماعت سے تعاون نہیں کر رہے۔اگر ایک مقام پر بھی ایسا ہوا ہو تو یہ بہت افسوسناک ہے خدام کو یا درکھنا چاہئے کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے وہ درست نہیں جن جگہوں میں قرآن کریم کے پڑھانے کا کام خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے مثلاً لا ہور اور ضلع سیالکوٹ کی جماعتیں۔وہاں جماعتی نظام سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجلس خدام الاحمدیہ سے پورا تعاون کریں گے۔اور جس جگہ یا علاقہ میں قرآن کریم پڑھانے کا کام مجلس انصار اللہ کے سپرد کیا گیا ہے اس علاقہ کی جماعتوں سے میں امید