سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 478

8 بڑی توجہ دینی پڑے گی اور اس کے لئے بڑی کوشش درکار ہوگی ہم بڑی جدوجہد کے بعد ہی اس کام میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس منصو بہ کو کامیاب بنانا نہایت ضروری ہے۔اگر ہم نے الہی سلسلہ کے طور پر ان نعمتوں کواپنے اندر قائم رکھنا ہے۔واللہ تعالیٰ نے محض رحمانیت کے ماتحت ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل عطا کی ہیں تو ہمیں اپنے اس منصو بہ کو کامیاب بنانے میں اپنے آپ کو پورے طور پر لگا دینا ہوگا۔اس منصوبہ کی تفاصیل متعلقہ محکمے تیار کریں اور ایک ہفتہ کے اندر اندر مجھے پہنچا ئیں۔یعنی جو حلقے مجلس خدام الاحمدیہ کو دیئے گئے ہیں اور جو جماعتیں مجلس انصار اللہ کے سپرد کی گئی ہیں اور باقی جماعتیں جو اصلاح وارشاد کے صیغہ کے سپرد کی گئی ہیں ان میں انہوں نے کس کس رنگ میں کام کرنا ہے اس کے متعلق وہ اپنا اپنا منصوبہ تیار کریں اور اس منصوبہ کی تفاصیل ایک ہفتہ کے اندراندر مجھے پہنچائیں ان سب محکموں کو یہ بات مد نظر رکھنا چاہئے کہ وہ پہلے ہی سال اس کام میں سو فیصدی نہیں تو 90 فیصدی کامیابی ضرور حاصل کر لیں۔کیونکہ جو ذہین بچے ہیں وہ تو چھ ماہ کے اندر بلکہ بعض بچے اس سے بھی کم عرصہ میں قرآن کریم ناظرہ پڑھ لیں گے قاعدہ میسر نا القرآن اگر صحیح طور پر پڑھا دیا جائے تو بچہ کیلئے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا مشکل نہیں ہوتا۔مجھے یہ سن کر بہت تعجب ہوا ہے کہ ہمارے کالج کے بہت سے طلباء بھی قرآن کریم نہیں پڑھ سکتے اور اگر یہ بات درست ہے کہ ان میں سے ایک تعداد قرآن کریم ناظرہ پڑھنا بھی نہیں جانتی یا ان میں سے بہت سے لڑ کے قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے تو انہیں یہ سوچنا چاہئے کہ اگر انہیں قرآن کریم سے وابستگی نہیں اگر انہیں قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں قرآنی علوم حاصل نہیں تو انہوں نے دنیوی علوم حاصل کر کے کیا لینا ہے۔دنیا کے ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں دہر یہ لوگ دنیا کے ان علوم کو حاصل کر رہے ہیں۔وہ دیکھیں کہ یہ علوم دنیا کو کس طرف لے جارہے ہیں۔اُخروی زندگی کو تو چھوڑ وہ دنیا کو بھی تباہی کی طرف لے جارہے ہیں وہ دیکھیں کہ آخر دنیا کو ان دنیوی علوم سے کون سی خیر و برکت حاصل ہورہی ہے۔آج دنیا کے ہر طبقہ کو اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ جس طرح ہم نے دنیوی علوم سیکھے ہیں اور جس طور پر ہم نے انہیں استعمال کیا ہے وہ انسانیت کو بھلائی کی طرف نہیں بلکہ تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔غرض ہمارے کالج کا طالب علم ہو اور پھر وہ قرآن کریم سے ناواقف ہو یہ بڑی شرم کی بات ہے۔بہر حال ہم نے یہ کام کرنا ہے اور واضح بات ہے کہ اتنے بڑے کام کے لئے چند مربی یا معلم یا مجالس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے بعض عہدیدار کافی نہیں۔یہ تھوڑے سے لوگ اس عظیم کام کو پوری طرح نہیں کر سکتے۔اس کیلئے ہمیں اساتذہ درکار ہیں ہمیں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے رضا کار چاہئیں جو اپنے اوقات میں سے ایک حصہ قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کے لئے یا جہاں ترجمہ سکھانے کی