سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 473 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 473

3 $ 1965 حضرت مسیح موعود نے دعا کی۔اے میرے رب ! مجھے انصار دے تا کہ تیرے کام بخیر و خوبی چلائے جاسکیں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ 3 دسمبر 1965ء میں فرمایا۔" جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور حکم دیا کہ اُٹھ اور ساری دنیا میں میری تو حید کو قائم کر اور دنیا کے تمام ادیان پر اسلام کے غلبہ کو ثابت کرنے کیلئے کوشش میں لگ جا اور دنیا کے ہر ملک اور قوم تک اسلام کا پیغام پہنچا تو اس اہم اور وسیع ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے رب کے حضور جھکے اور بڑے بجز اور گریہ وزاری کے ساتھ آپ نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ اتنا اہم اور اتنا وسیع کام اکیلے مجھ سے تو نہ ہو سکے گا۔اس لئے میری درخواست ہے کہ تو اپنی طرف سے مجھے انصار دے تا تیری شریعت اور احکام کو اس دنیا میں قائم رکھا جا سکے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وعدہ دیا۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ (براہین احمدیہ حصہ سوم صفحہ 238) کہ ہم تمہیں ایسے مددگار عطا کریں گے۔جنہیں ہم آسمان سے وحی کریں گے کہ اٹھو اور میرے اس بندہ کے مددگار بنو اور انصار کی حیثیت سے اس کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئینہ کمالات اسلام کے عربی حصہ میں اپنی اس گریہ وزاری اور دعا کا ذکر جن الفاظ میں کیا ہے ان کا ترجمہ یہ ہے۔اور میں رات دن اللہ تعالیٰ کے حضور چلاتا رہا اور کہتا رہا يَا رَبِّ مَنْ أَنْصَارِبُ يَارَبِّ مَنْ انصاری کہ اے میرے رب ! میرے انصار کون ہیں؟ مجھے مددگار دے تا کہ تیرے کام خیر و خوبی کے ساتھ چلائے جاسکیں آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 581) خطبات ناصر جلد اول صفحہ 28