سبیل الرّشاد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 460 of 606

سبیل الرّشاد (جلد دوم) — Page 460

سبیل الرشاد جلد دوم 460 کنٹرول نہیں رکھتا۔یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ دل کو کہے بس کافی ہو گیا۔بند ہو جاؤ اور دہر یہ کہے خدا تو ہے ہی نہیں۔اس لئے اے میرے دل تو نے اس آواز کو سنا نہیں۔وہ مر جائے گا۔جو مرضی سوچتا رہے وہ۔اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو وہ پسند کرتا ہے۔ہمیں پاک زندگی گزارنی چاہئے۔ہمارے سارے پروگرام ایسے ہونے چاہئیں کہ ہمیں پاک زندگی گزارنے کی تربیت دیں اور اس قابل بنائیں کہ ہم پاک زندگی گزارنے لگیں۔اس کے لئے قرآن کریم نے جو تعلیم دی وہ نوا ہی میں ہے۔نہ کرو۔یعنی ہر گند سے بچالیا نا۔گندہ کھانا مت کھا ؤ وغیرہ وغیرہ۔سارے نواہی جو ہیں۔احکام قرآنی آگے دو حصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔ایک کا تعلق خدا تعالیٰ کی سیو حیت اور قدوسیت سے ہے اور دوسرا جو گروہ ہے احکام کا ، اس کا صفات حسنہ سے ہے۔تو جن احکام کا تعلق خدا تعالیٰ کی سبو حیت اور قد وسیت سے ہے انہیں ہم نوا ہی کہتے ہیں۔جو گند کو دور کر کے اس قابل بناتی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رحمت انسان کی طرف مائل بہ توجہ ہو سکے۔مثلاً ایک شخص جو خدا تعالیٰ سے پیار کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت رکھتا ہے اور اس کے عشق میں مست ہے اس کو سب سے زیادہ دکھ دینے والی بات یہ ہے کہ کوئی اس کے محبوب اللہ کو گالی دے۔اس سے زیادہ اور کوئی بات تکلیف دہ نہیں اس کے لئے ہو سکتی۔اب اس وقت جماعت احمدیہ، (یہ میں ایک اور بیچ میں بات لے آیا ہوں۔پھر اس طرف آ جاؤں گا) کے لئے سب سے زیادہ دکھ وہ دو باتیں بن گئیں۔نمبر ایک اللہ تعالیٰ کے خلاف باتیں سننا اور گالیاں سننا۔دوسرے نمبر ہمارے پیارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی کی باتیں سننا، جب ۷۴ء میں اور اب بھی بہت گالیاں دیتے ہیں بڑے جوش میں آجاتے ہیں جو ان۔میں ان کو کہا کرتا ہوں جو میں تعلیم اب بتا رہا ہوں آپ کو کہ جب ہم ان گالیوں کے بدلے لے چکیں گے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں پھر ان گالیوں کی طرف آئیں گے جو ہمیں دی جا رہی ہیں۔اس وقت تو جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا اپنی ذات کے متعلق۔اور ان کا بدلہ لاٹھی سے تو ہم نے نہیں لینا۔ان کا بدلہ یہ ہے، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا بھلا کہنے والے کا بدلہ یہ ہے کہ ہم اس شخص کے دل میں محمد کا پیار پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔تو میں بتا رہا تھا کہ سب سے زیادہ دکھ دہ بات ایک مسلم مومن کے لئے یہ ہے کہ اتنی عظیم ہستی جس کی وہ معرفت رکھتا ہے، جس کی نعماء سے اس کی جھولیاں بھری ہوئی ہیں، جو ہر دُکھ کے وقت اس کے دُکھ کو دور کرنے کے سامان پیدا کرتا ہے جو اتنا پیار کر نیوالا ہے کہ اس کی خطاؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے موسلا دھار بارش کی طرح اپنی نعمتیں اس کے اوپر برسا رہا ہے، اس کو وہ گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔سب سے زیادہ دکھ دہ یہ بات